خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

جمعہ 30 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رہنما مسلم لیگ ن اور وزیراعظم کے آرڈینیٹربرائے انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ اختیار ولی نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض کی باقیات آج بھی صوبہ خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی میں موجود ہیں اور بڑی بڑی پوزیشنز پر اہم فیصلے کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟

وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل فیض کی ٹیم ابھی بھی موجود ہے اور پوزیشنز پر بیٹھے ہیں، صوبے کے کرتا دھرتا ہیں اور انہوں نے انتخابات اور ریٹرننگ آفیسرز کے ذریعے پی ٹی آئی کے حق میں نتائج بنوائے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی پالیسیوں اور بیانات پر بھی تنقید  کی اور کہا کہ ان کی سیاسی اننگ ختم ہونے کو ہے اور وہ اپنا آخری اوور کھیل رہے ہیں۔

اختیار ولی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں  نئے وزیراعلیٰ کے آنے کے امکانات موجود ہیں، چاہے وہ پی ٹی آئی کے اندر سے ہو یا اپوزیشن سے ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب صوبے میں گورنر راج لگانا بھی تبدیلی کا ایک آپشن ہے۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی اختیار ولی نے خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کی کمزوری، تنظیمی ناکامیوں، پی ٹی آئی کی گورننس اور سیکیورٹی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1990، 1993 اور 1997 میں مسلم لیگ (ن) کی خیبر پختونخوا میں مضبوط حکومت رہی، پارٹی اس وقت صوبے کی دوسری بڑی سیاسی قوت تھی اور تنظیمی طور پر نہایت منظم اور ڈسپلن میں تھی مگر وقت کے ساتھ قیادت کی تبدیلی اور تنظیمی غفلت نے پارٹی کو کمزور کر دیا۔

مزید پڑھیے: فیض حمید نے آموں کے بہانے مجھے منشیات میں پھنسانے کی سازش کی تھی، جاوید لطیف کا دعویٰ

اختیار ولی نے کہا کہ ماضی میں پیر صابر شاہ، اقبال ظفر جھگڑا اور حاجی جاوید جیسے رہنماؤں کے دور میں پارٹی عروج پر تھی مگر بعد ازاں تنظیم پر وہ توجہ نہیں دی گئی جو ایک سیاسی جماعت کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

’انہوں نے کہا کہ ’موجودہ صوبائی قیادت کا اپنا انداز ہے مگر وہ انداز تنظیمی صدر کے معیار پر پورا نہیں اترتا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی عملی طور پر کہیں نظر نہیں آتی‘۔

’ن لیگ کا ناراض کارکن بھی نواز شریف، مریم و شہباز شریف کے آنے پر متحرک ہوجاتا ہے‘

اختیار ولی نے کہا کہ پارٹی کے کئی سینیئر اور نظریاتی رہنما ناراض ہو کر گھر بیٹھ گئے جو مسلم لیگ (ن) کے لیے بڑا سیاسی نقصان ہے۔ داور کنڈی اور عمران فریدی جیسے لوگ پارٹی میں آئے مگر انہیں مناسب سیاسی اسپیس نہ مل سکی جس کے باعث وہ واپس چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت میں اگر کارکنوں کو ذمہ داری نہ دی جائے تو وہ غیر فعال ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: وی ایکسکلوسیو: 9 مئی سزا: فوکس فیض، عمران گٹھ جوڑ پر ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

اختیار ولی نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کا کارکن خیبر پختونخوا میں پارٹی نہیں چھوڑتا بلکہ ناراض ہو کر گھر بیٹھ جاتا ہے اور جب نواز شریف، مریم نواز یا شہباز شریف صوبے میں آتے ہیں تو یہی کارکن دوبارہ متحرک ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی صدر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مرکزی قیادت کو بلا کر کارکنوں کو متحرک کرے مگر یہ کردار ادا نہیں کیا گیا۔

پی ٹی آئی کی گورننس پر تنقید کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ صوبے میں صحت کارڈ کے نام پر 20 فیصد فائدہ عوام کو جبکہ اسی فیصد کرپشن ہو رہی ہے اور جعلی آپریشنز اور جعلی اندراجات کے ذریعے اربوں روپے نکلوائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم پر سینکڑوں ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود 60 فیصد طلبہ فیل ہو جاتے ہیں، یونیورسٹیاں دیوالیہ ہوچکی ہیں جبکہ قبائلی اضلاع میں بنیادی سہولیات تک موجود نہیں۔

اختیار ولی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ایسا طبقہ اقتدار میں آیا جو کبھی ننگے پاؤں اسمبلی آیا تھا اور آج ارب پتی بن چکا ہے، یہ لوگ کرپشن کے خلاف نعرے لگاتے ہیں مگر خود سب سے زیادہ کرپشن میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت، تعلیم اور پولیس سمیت تمام شعبے تباہ ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: فیض حمید کو سزا کے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کہاں ہیں اور کیا سوچ رہے ہیں؟

دہشتگردی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مؤقف ریاستی مؤقف سے متصادم رہا اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کو بڑے آپریشنز بنا کر پیش کیا گیا جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر واضح کر چکے تھے کہ کوئی بڑے پیمانے کا آپریشن نہیں ہو رہا۔

’تیراہ میں نقل مکانی صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا‘

انہوں نے کہا کہ تیراہ ویلی میں نقل مکانی صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا مگر بعد میں اس کا الزام وفاق اور فوج پر ڈال دیا گیا۔

اختیار ولی نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) 90 کی دھائی کی طرز پر خود کو دوبارہ منظم کرے، یوتھ اور کارکنوں کی تربیت کرے اور اقتدار کی طاقت کو نچلی سطح تک منتقل کرے تو آج بھی خیبر پختونخوا میں نواز شریف کا نظریہ زندہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’امن، ترقی، سڑکیں، موٹر ویز اور عدالتی اصلاحات مسلم لیگ (ن) کی پہچان ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے پاس صرف لنگر خانے اور نمائشی منصوبے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ’آزادی یا موت‘: عمران خان کا پیغام موصول، بانی پی ٹی آئی وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے کیا چاہتے ہیں؟

اختیار ولی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو برسوں سے جذباتی نعروں، مذہب، قومیت اور اینٹی امریکا بیانیے کے ذریعے استعمال کیا گیا مگر اب زمینی حقائق سب کے سامنے ہیں اور عوام خود ان کا سامنا کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp