برطانیہ میں جنسی جرائم کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے ملکی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق نہ صرف جنسی زیادتی، بلکہ منشیات اور چوری کے جرائم میں بھی قابلِ ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جنسی جرائم میں اضافہ
برطانوی دفتر برائے قومی شماریات (ONS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ستمبر تک 2 لاکھ 14 ہزار 816 جنسی جرائم کے کیسز ریکارڈ کیے گئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ اوسطاً تقریباً 588 جنسی جرائم رپورٹ ہو رہے ہیں۔
Sex crimes soar to record levels with average of 588 every day, while drug offences and shoplifting continue to rise in new official stats https://t.co/g0ihCYn3BQ
— Daily Mail (@DailyMail) January 29, 2026
جنسی زیادتی کے کیسز کی صورتحال
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس سال 74 ہزار سے زائد جنسی زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جو روزانہ تقریباً 6 سو واقعات کے برابر ہیں۔ موازنہ کے طور پر، سال 2003 میں یہ تعداد 57 ہزار تھی۔
منشیات اور چوری کے جرائم
منشیات سے متعلق جرائم میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کے کیسز میں 38 فیصد اضافہ کے ساتھ 75 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ منشیات رکھنے کے جرائم میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں تقریبا 1.5 لاکھ کیسز سامنے آئے ہیں۔ چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں بھی بڑھیں؛ سال میں تقریباً 83 ہزار ڈکیتی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ: جنسی جرائم پر سزا پانے والوں میں بھارتی شہری سب سے آگے، رپورٹ میں انکشاف
ماہرین کی تشویش
برطانوی میڈیا نے ONS کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں منشیات فروشی اور دکانوں سے چوری کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی جرائم میں اضافہ، منشیات کے جرائم اور چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات برطانیہ میں سماجی اور اقتصادی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں، اور اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔












