صوبائی دارالحکومت لاہور میں شادی کا جھانسہ دے کر خاتون سے زیادتی اور بعد ازاں شادی سے انکار پر قتل کی دھمکیاں دینے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جس پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے متاثرہ خاتون کے گھر کا دورہ کیا اور اس کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: ‘یہ جاہل پڑھے لکھے بھی نہیں اور کوشش بھی نہیں کرتے’، سوشل میڈیا صارفین نے حنا پرویز بٹ کو آڑے ہاتھوں لے لیا
حنا پرویز بٹ کی جانب سے متاثرہ خاتون کے گھر کے دورے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی جس میں متاثرہ خاندان کے افراد کے چہرے واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا اور حنا پرویز بٹ پر سخت تنقید کی گئی۔
لاہور میں خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازکی ہدایت پر متاثرہ خاتون کے گھر جا کر خاتون سے اور اس کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔متاثرہ فیملی کو یقین دلایا گیا کہ حکومتِ پنجاب ان کے ساتھ کھڑی ہے اور اس… pic.twitter.com/OF4NCl3cE5
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) January 30, 2026
عفت حسن رضوی نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جنسی زیادتی کی متاثرہ خواتین اور ان کے اہلِ خانہ کو سوشل میڈیا پر اس طرح بے نقاب کرنے کا سلسلہ کب ختم ہوگا۔ انہوں نے متاثرہ افراد کے پرائیویسی رائٹس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کیا متعلقہ حکام کو وکٹم پرائیویسی کے بنیادی اصولوں کا ادراک نہیں؟ عفت حسن رضوی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حنا صاحبہ کے دعوے کے مطابق یہی ’وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت‘ ہے ؟
جنسی زیادتی کی متاثرہ خواتین کے پورے خاندان کو سوشل میڈیا پہ بے آبرو کرنے کا یہ سلسلہ کب بند ہوگا ؟
وکٹم پرائیویسی رائٹ کا کچھ تو علم ہوگا ؟
کیا حنا صاحبہ کے دعوے کے مطابق یہی 'وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت' ہے ؟@GovtofPunjabPK @MaryamNSharif https://t.co/qSVjtRniPr— Iffat Hasan Rizvi (@IffatHasanRizvi) January 30, 2026
نادیہ مرزا نے کہا کہ خدارا ذاتی تشہیر کے لیے زیادتی کا شکار فیملیز کا استعمال نا کریں۔ کچھ تو خوف خدا کریں ہم تو بول بول کر تھک گئے ہیں۔
خدارا ذاتی تشہیر کے لیے زیادتی کا شکار فیملیز کا استعمال نا کریں۔ کچھ تو خوف خدا کریں ہم تو بول بول کر تھک گئے ہیں۔ @hinaparvezbutt https://t.co/ugixwqpTYJ
— Nadia Mirza (@nadia_a_mirza) January 30, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ کیا ویڈیو کلپ جاری کرنا واقعی ضروری تھا؟ بغیر ویڈیو کے بھی پیغام مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا تھا۔ اگر مقصد صرف وزیراعلیٰ کا پیغام دینا تھا تو بہتر ہوتا کہ پولیس اسٹیشن میں اپنی حاضری کی ویڈیو جاری کی جاتی جہاں ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا جاتا بجائے اس کے کہ متاثرہ خاندان کو منظرِ عام پر لایا جاتا۔
کیا ویڈیو کلپ لگانا ضروری تھا؟ اسکے بغیر بھی پیغام پہنچ جاتا۔ اپنے ڈریس کی نمائش کے لئے پولیس سٹیشن میں اپنی حاضری کا کلپ لگاتیں کہ سی ایم کا پیغام دیا کہ ذمہ دار کو کٹہرے میں لایا جائے۔ https://t.co/0MoMqhOtkl
— Dr. Shahid Islam (@DrShahidIslam2) January 30, 2026
محمد عمیر نے کہا کہ پورا ملک اس خاتون کو روکرہا ہے کہ ریپ سے متاثرہ افراد کے گھروں کے اس طرح دورے نہ کیے جائیں اور نہ ہی ایسی ویڈیوز شیئر کی جائیں مگر افسوس کہ اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ریپ متاثرہ افراد کی شناخت کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے لیکن یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر صاحبہ کو ان بنیادی اخلاقی اور انسانی اصولوں کا بھی ادراک نہیں۔
پورا ملک اس خاتون کو روک رہا ہے کہ ریپ متاثرہ لوگوں کے گھروں کے یوں دورے نہ کرو ویڈیوز شئیر نہ کرو مگر مجال ہے اس خاتون پر کوئی اثر ہوا ہوں ساری دنیا ریپ وکٹم کی شناخت چھپاتی مگر وزیر صاحبہ کو ان بنیادی اخلاقیات کا بھی علم نہیں ہے۔ https://t.co/VWnfXYavOt
— Muhammad Umair (@MohUmair87) January 30, 2026














