حکومتِ سندھ نے ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر گل محمد شاہ کا تبادلہ کرتے ہوئے گریڈ 20 کے افسر مظہر نواز شیخ کو نیا ڈی آئی جی ٹریفک کراچی تعینات کر دیا ہے جس کا باضابطہ نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سانحے کے پیچھے قبضہ مافیا ہوسکتی ہے، فیصل ایدھی نے خدشات کا اظہار کردیا
کراچی جیسے بڑے شہر میں ٹریفک کی خراب صورتحال کے باعث ڈی آئی جی ٹریفک کی تبدیلی کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھی جاتی۔
ماضی میں بھی ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، تجاوزات کے خاتمے اور وی آئی پی کلچر پر قابو پانے کے لیے ڈی آئی جی ٹریفک کو بارہا تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں سندھ حکومت کی جانب سے پولیس محکمے میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ بھی کی گئی ہے۔
تاہم ڈی آئی جی ٹریفک پیر گل محمد شاہ کا تبادلہ اس وقت خاص اہمیت اختیار کر گیا جب اس کا تعلق سانحہ گل پلازہ سے جوڑا جانے لگا۔ اگرچہ سرکاری نوٹیفیکشن میں یہ تبادلہ ایک معمول کی انتظامی کارروائی کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے مگر پس منظر میں چلنے والی باتیں اس واقعے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیے: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے مطابق آگ کا آغاز دکان نمبر 193، گراؤنڈ فلور میں ماچس سے ہوا، تفصیلی رپورٹ جاری
ذرائع کے مطابق فائر بریگیڈ کی ابتدائی رپورٹ میں یہ الزام سامنے آیا تھا کہ شدید ٹریفک جام کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں جس کی وجہ سے فائر بریگیڈ کو بروقت آپریشن میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی تناظر میں ڈی آئی جی ٹریفک کے تبادلے کو سانحہ گل پلازہ سے جوڑا جا رہا ہے۔
اگرچہ ان اندرونی وجوہات کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، تاہم ماضی میں بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل میونسپل کمشنر کو بھی ہٹایا گیا تھا اور ان کے نوٹیفیکشن میں بھی کسی غیر معمولی وجہ کا ذکر نہیں تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹیفیکشنز عموماً روٹین کے مطابق جاری کیے جاتے ہیں لیکن اصل وجوہات پس پردہ ہی رہتی ہیں۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، عمارت کے ملبے سے 70 تولہ سونا برآمد، مالک کے حوالے کردیا گیا
حالیہ تبادلے کی کڑیاں بھی کہیں نہ کہیں سانحہ گل پلازہ سے ملتی دکھائی دیتی ہیں جس پر سرکاری سطح پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔














