وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں، پی ٹی آئی کے سارے کارڈز ناکام ہوگئے ہیں، اس لیے یہ اب عمران خان کی صحت کو لے کر ہمدردی کارڈ کھیل رہی ہے، ان کو اب این آر او نہیں ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کو پمز اسپتال لائے جانے میں چھپانے والی بات کوئی نہیں ہے، نہ یہ بات چھپی رہ سکتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کبھی مثبت نہیں ہوسکتی، کبھی کہتی ہے کہ عمران خان کو صحت کی سہولیات نہیں دی جارہی اور ان کا خیال نہیں رکھا جاتا، اب عمران خان کو صحت کا کچھ مسئلہ ہوا ہے تو اسلام آباد کے سب سے بہترین اسپتال میں علاج کے لیے لایا گیا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پمز اسپتال سے تسلی ہونے کے بعد عمران خان کو واپس جیل پہنچایا گیا، یہ حکومت اور جیل حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قیدیوں کی صحت اور باقی حقوق کا خیال رکھیں اور وہ خیال رکھ رہے ہیں، کئی قیدیوں کو علاج کے لیے اسپتال پہنچایا جاتا ہے اور کسی کی پریس ریلیز یا پریس کانفرنس نہیں ہوتی، قیدی کے ورثا کو اطلاع دینا کہ وہ بیمار ہے، جیل حکام کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اسپتال لائے جانے سے متعلق خبر کی تصدیق یا تردید کی پوزیشن میں نہیں، طلال چوہدری
انہوں نے کہا کہ عمران خان بالکل صحت مند اور ٹھیک ہیں، ان کے جیل میں ذاتی معالج اور باورچی بھی ہیں، جیل کے اندر ذاتی رہائش گاہ بھی ہے، ذاتی ایکسرسائز مشین اور ذاتی خدمت گزار بھی ہیں، ہر چیز کا خیال رکھنا پڑتا ہے، وہ سزا یافتہ ہیں، سیکیورٹی اور دوسری وجوہات پر نہیں بتایا گیا کہ انہیں اسپتال لایا جارہا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل حکام کا اپنا طریقہ کار ہے، ہر چیز کی وزیر مملکت یا وزیراعظم کو اطلاع نہیں دی جاتی، جیل حکام کے اپنے ایس او پیز ہیں، سیکیورٹی اداروں اور باقی لوگوں کا آپس میں طریقہ کار موجود ہے، عمران خان کی فیملی کو صرف اپنی سیاست کی فکر ہے، وہ ملاقات کو صرف اپنے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، ملاقات کے بعد جیل سے باہر آکر پارٹی کے کنٹرول اور پارٹی کے اندر اپنی چوہدراہٹ کے لیے بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کے سیاسی مشیر رہے، عطا تارڑ کا دعویٰ
طلال چوہدری نے کہا کہ ماضی میں جب نواز شریف بیمار ہوئے تو ان کے علاج کو سیاسی ہتھیار بتانے کی کوشش کی گئی، جب ان کے پلیٹلٹس تشویشناک حد تک گرگئے، تب انہیں اسپتال شفٹ کیا گیا، پھر عمران خان نے کہا کہ وہ سرکاری اسپتال کی رپورٹ کو نہیں مانتے، شوکت خانم اسپتال کا ڈاکٹر تصدیق کرے گا، جس ڈاکٹر نے یہ تصدیق کی کہ نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے اسے اٹھا لیا گیا، پھر شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز نے تصدیق کی تو نواز شریف کی جان بچ گئی، ان کی بیٹی کو ان کے ساتھ رہنے کی اجازت تب دی گئی جب ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس حد تک ہم نہیں گئے نہ جانا چاہتے ہیں، ہمارے سیاسی مخالفین ہیں ذاتی نہیں، ہمارا اس بات پر دھیان نہیں ہے کہ ان کے اے سی اتار دو، کھانے میں کچھ ملا دو، ہمارا فوکس ان باتوں پر نہیں بلکہ گورننس پر ہے، لیکن پی ٹی آئی ہمدردی کارڈ بنا رہی ہے کہ بیٹوں کو ملنے نہیں دیا جا رہا، 2 سال ہوگئے ہیں بیٹے کہہ رہے ہیں کہ وہ ویزا اپلائی کر رہے ہیں، کیوں نہیں آ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ثاقب نثار نے ملک کو نقصان پہنچایا، فوج کی طرح عدلیہ کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے، طلال چوہدری
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سارے کارڈ ناکام ہوچکے، 9 مئی، 26 نومبر، استعفے، اسمبلیاں توڑی، اپوزیشن لیڈر بدلا، وزیراعلیٰ بدلا، یہ اپوزیشن لیڈر بدلیں یا وزیراعلیٰ بدلیں، ان کو این آر او نہیں ملے گا، پی ٹی آئی سب سے مایوس ہے، عوام اور اسمبلیوں سے بھی مایوس ہیں، آج چیف جسٹس سے بھی مایوس ہوگئے، یہ کہتے ہیں کہ عمران خان عام آدمی نہیں ہیں، کیا یہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ ہینڈسم اور مقبول آدمی کے لیے قانون کوئی دوسرا ہوگا۔














