پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بلوچستان میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ مسلح عناصر کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن دہشتگردی اور دہشتگردوں کے لیے کسی قسم کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، اس ناسور کے خلاف متحد ہونا ناگزیر ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ان کی آڈیو کو بلاوجہ متنازع بنا دیا گیا ہے، حالانکہ اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات موجود نہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے ناکام بنا دیے، 108 ہلاک، 10 جوان شہید
ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ انہوں نے سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا، تاہم پارٹی کی وضاحت کے بعد یہ پروپیگنڈا ناکام ہو گیا۔
انہوں نے واضح کیاکہ سہیل آفریدی کو پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ہی انہیں وزیرِ اعلیٰ مقرر کیا تھا۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ پارٹی کے اندر کسی معاملے پر گفتگو نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر مختلف گروپس میں باہمی تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔
ان کے مطابق اگر کوئی بات واقعی غلط ہوتی تو وہ کھلے عام سامنے لاتے، جبکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے آڈیو کے حوالے سے دی گئی وضاحت درست ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق بات کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہاکہ پی ٹی آئی پمز اسپتال کی کسی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتی اور ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج شوکت خانم اسپتال میں کروایا جائے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جب نواز شریف بیمار تھے تو بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سیاسی اختلافات ایک طرف رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کو ترجیح دینے کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ کسی کی جان پر سیاست نہیں کی جائے گی۔
شیخ وقاص اکرم نے کہاکہ عوام کے جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیے اور یہی مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج شوکت خانم میں ہو۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالج انہیں دیکھ لیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ پہلے بھی ملاقاتیں کروائی جاتی رہی ہیں، لیکن اب جیل مینول اور قانون کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
محمود خان اچکزئی کے اس بیان پر کہ بیماری کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ وہ ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور ممکن ہے ان کے پاس ایسی معلومات ہوں جو پارٹی کے پاس موجود نہ ہوں۔
انہوں نے کہاکہ جب تک اہلِ خانہ اور ڈاکٹر عاصم کی ملاقات نہیں ہوتی، ووٹر مطمئن نہیں ہو گا، اور یہ بھی کہا کہ محمود اچکزئی خود بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ڈاکٹر عاصم کے پاس لے جائیں۔
چیف جسٹس سے سلمان اکرم راجہ کی ملاقات کے حوالے سے سوال پر شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ اس ملاقات کے کوئی نمایاں نتائج سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس ملاقات کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اہلِ خانہ یا رہنماؤں کی ملاقات ممکن ہو سکی؟
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ پارٹی نے اس معاملے پر اجلاس طلب کیا ہے، دہشتگردی کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے اور دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ملاقات، دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی پر زور
انہوں نے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ امن و امان کے قیام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف اس کی حکمت عملی کیا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ناگزیر ہے، کیونکہ ریاستِ پاکستان کی سلامتی ہر چیز پر مقدم ہے۔














