بنگلہ دیش اور امریکا نے 9 فروری کو دوطرفہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت کرنے کی تاریخ مقرر کی ہے تاکہ ٹیرف مسائل حل کیے جاسکیں، یہ بات بنگلہ دیش کے سیکریٹری تجارت محبوب الرحمان نے اتوار کو بتائی۔
سیکریٹری تجارت نے کہا کہ معاہدے کا مسودہ تیار ہے اور منظوری کے لیے خلاصہ بھی بھیجا جا چکا ہے تاکہ یہ معاہدہ طے شدہ تاریخ کو واشنگٹن میں دستخط کے لیے پیش کیا جاسکے۔ ٹیرف کی آخری شرحیں دستخط سے قبل طے کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا سے تجارتی مذاکرات، بنگلہ دیش کے لیے نئے مواقعوں کے امکانات روشن
انہون نے کہا کہ بات چیت کا محور امریکی دوطرفہ ٹیرف ہے، جو بنگلہ دیشی مصنوعات پر عائد ہے۔ واشنگٹن نے ابتدا میں 37 فیصد ٹیرفز لگائے تھے، بعد میں انہیں 35 فیصد تک کم کیا اور گزشتہ جولائی میں مذاکرات کے بعد 20 فیصد کر دیا۔ یہ کمی اس شرط کے ساتھ کی گئی کہ ڈھاکا دوطرفہ تجارتی فرق کو کم کرنے کے اقدامات کرے۔
محبوب الرحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش اس وقت 20 فیصد دوطرفہ ٹیرف کا سامنا کررہا ہے، جو کئی دیگر ممالک کے لیے بھی عائد ہے اور محتاط امید ظاہر کی کہ اس شرح کو مزید کم کیا جاسکتا ہے۔
بنگلہ دیش نے بہتر رسائی کے لیے رعایتیں پیش کی ہیں۔ بات چیت میں امریکی کپاس سے بنے گارمنٹس کے ڈیوٹی فری داخلے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ ڈھاکا نے پہلے ہی امریکی کپاس کی درآمدات میں اضافہ کیا ہے تاکہ تجارتی توازن بہتر بنایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور امریکا کے مابین بارہویں دفاعی مذاکرات کا آغاز
وسیع تجارتی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے سیکریٹری تجارت نے کہا کہ بھارت کے حالیہ یورپی یونین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے سے متعلق خدشات کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کے گارمنٹس سیکٹر نے 45 سال میں مضبوط صلاحیت پیدا کی ہے اور اب بھی دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔
بنگلہ دیش کم ترقی یافتہ ملک کے درجے سے ترقی یافتہ ہونے کی تیاری کررہا ہے، اس لیے ڈھاکا فری ٹریڈ ایگریمنٹس کو تیز کررہا ہے۔ جاپان کے ساتھ بات چیت مکمل ہے، دستخط 6 فروری کو ہونے ہیں، جنوبی کوریا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور یورپی یونین کو تجاویز بھیج دی گئی ہیں۔
محبوب الرحمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ سیول ایئر کرافٹ کی خریداری کے لیے بوئنگ کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے تاکہ بنگلہ دیش کی ہوا بازی کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے، تاہم فوجی طیارے تجارتی مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا امریکا کو پیغام، غزہ مشن میں شامل ہونے پر آمادگی
بنگلہ دیش کا مقصد امریکی ساتھ تقریباً 6 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے، درآمدات میں 12 سے 18 ماہ کے دوران اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ برآمدات خاص طور پر گارمنٹس میں اضافہ کیا جائے گا۔













