دریائے راوی کی زمین پر بننے والے رہائشی منصوبے ختم کیے جائیں، راوی بچاؤ تحریک کا مطالبہ

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راوی بچاؤ تحریک ہم سب کی مشترکہ کوشش ہے، جس کا مقصد ماحول، دریاؤں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔

یکم فروری کو راوی بچاؤ تحریک کی جانب سے چوتھی سالانہ آگاہی یاترا کا انعقاد کیا گیا، جس میں شرکا نے پیدل چلتے ہوئے ناصر باغ سے دریائے راوی کے کنارے تک کا سفر کیا۔

مزید پڑھیں: راوی کا پانی زراعت کے لیے قابل استعمال کیوں نہیں رہا؟ مصدق ملک نے وجہ بتادی

اس یاترا میں ماحولیاتی کارکنان، طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شرکا کا کہنا تھا کہ وہ دریائے راوی کا حق مانگنے آئے ہیں، کیونکہ اس وقت دریائے راوی دنیا کے زہریلے ترین دریاؤں میں شمار ہوتا ہے۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ بھارت اور پاکستان میں راوی کے کنارے قائم سینکڑوں صنعتوں اور گندے نالوں کا آلودہ پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریا میں چھوڑا جا رہا ہے، جس کے باعث آبی حیات قریباً ختم ہو چکی ہے۔ اس آلودگی نے نہ صرف راوی کے اطراف آباد کچی آبادیوں کے مکینوں کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ زرخیز زرعی زمینوں کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ دریاؤں میں بہنے والے تمام گندے نالوں کو بند کیا جائے، دریائے راوی کی زمین پر بننے والے رہائشی منصوبے ختم کیے جائیں، اور سندھ طاس معاہدے پر نظرِ ثانی کی جائے۔

’راوی کے کنارے قائم ہاؤسنگ سوسائٹیوں، خصوصاً روڈا جیسے منصوبوں کے خلاف بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، جن کے خلاف ماضی میں بھی ماحول دوست حلقے احتجاج کرتے آئے ہیں۔‘

ابوزر مادھو کا کہنا تھا کہ راوی بچاؤ تحریک ایک اجتماعی جدوجہد ہے، جس میں ہم اپنے دریا، ماحول، پرندوں اور مقامی آبادی کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ماحول ہوگا، دریا ہوں گے اور درخت ہوں گے تو ہی ہماری زندگی ممکن ہوگی۔

مزید پڑھیں: دریائے راوی نے پاک بھارت سرحدی تمیز مٹا دی، شدید طغیانی 30 کلومیٹر طویل بارڈر بہا لے گئی

انہوں نے مزید بتایا کہ تحریک کے تحت ماہانہ اور ہفتہ وار اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ یہ سالانہ یاترا دریا کے ساتھ اپنے ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑنے کی ایک علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال مل کر اپنے دریا سے ملنے آتے ہیں، اس کے مسائل پر بات کرتے ہیں اور اس کے حق کے لیے اجتماعی طور پر بلند کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’میک اِن انڈیا‘ کہاں گیا؟ امریکا سے تجارتی معاہدے پر کانگریس کی تنقید

ایپسٹین فائلز: نواز شریف کے بجائے عمران خان کو کیوں موثر شخصیت قرار دیا گیا؟

او جی ڈی سی ایل غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں سابق وزیر انور سیف اللہ کی نظرثانی درخواست مسترد

بسنت: لاہور میں ڈرون سے نگرانی، چھتوں کی رجسٹریشن اور زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ

چین اور یوراگوئے کو برابر اور ملٹی پولر دنیا کے قیام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، صدر شی جن پنگ

ویڈیو

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا قبائل کے ہمراہ اسلام آباد مارچ کا اعلان، مقصد کیا ہے؟

لاہور میں بسنت کی تیاریاں جاری، پتنگوں سے پہلے ان کی قیمتیں آسمان پر

8 فروری: نوجوان بسنت منائیں گے یا ہڑتال کریں گے؟

کالم / تجزیہ

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ رو رہے تھے