راوی بچاؤ تحریک ہم سب کی مشترکہ کوشش ہے، جس کا مقصد ماحول، دریاؤں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
یکم فروری کو راوی بچاؤ تحریک کی جانب سے چوتھی سالانہ آگاہی یاترا کا انعقاد کیا گیا، جس میں شرکا نے پیدل چلتے ہوئے ناصر باغ سے دریائے راوی کے کنارے تک کا سفر کیا۔
مزید پڑھیں: راوی کا پانی زراعت کے لیے قابل استعمال کیوں نہیں رہا؟ مصدق ملک نے وجہ بتادی
اس یاترا میں ماحولیاتی کارکنان، طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شرکا کا کہنا تھا کہ وہ دریائے راوی کا حق مانگنے آئے ہیں، کیونکہ اس وقت دریائے راوی دنیا کے زہریلے ترین دریاؤں میں شمار ہوتا ہے۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ بھارت اور پاکستان میں راوی کے کنارے قائم سینکڑوں صنعتوں اور گندے نالوں کا آلودہ پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریا میں چھوڑا جا رہا ہے، جس کے باعث آبی حیات قریباً ختم ہو چکی ہے۔ اس آلودگی نے نہ صرف راوی کے اطراف آباد کچی آبادیوں کے مکینوں کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ زرخیز زرعی زمینوں کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ دریاؤں میں بہنے والے تمام گندے نالوں کو بند کیا جائے، دریائے راوی کی زمین پر بننے والے رہائشی منصوبے ختم کیے جائیں، اور سندھ طاس معاہدے پر نظرِ ثانی کی جائے۔
’راوی کے کنارے قائم ہاؤسنگ سوسائٹیوں، خصوصاً روڈا جیسے منصوبوں کے خلاف بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، جن کے خلاف ماضی میں بھی ماحول دوست حلقے احتجاج کرتے آئے ہیں۔‘
ابوزر مادھو کا کہنا تھا کہ راوی بچاؤ تحریک ایک اجتماعی جدوجہد ہے، جس میں ہم اپنے دریا، ماحول، پرندوں اور مقامی آبادی کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ماحول ہوگا، دریا ہوں گے اور درخت ہوں گے تو ہی ہماری زندگی ممکن ہوگی۔
مزید پڑھیں: دریائے راوی نے پاک بھارت سرحدی تمیز مٹا دی، شدید طغیانی 30 کلومیٹر طویل بارڈر بہا لے گئی
انہوں نے مزید بتایا کہ تحریک کے تحت ماہانہ اور ہفتہ وار اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ یہ سالانہ یاترا دریا کے ساتھ اپنے ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑنے کی ایک علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال مل کر اپنے دریا سے ملنے آتے ہیں، اس کے مسائل پر بات کرتے ہیں اور اس کے حق کے لیے اجتماعی طور پر بلند کرتے ہیں۔













