سینیئر سیاستدان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ترک صدر طیب اردوان نے عمران خان کو ترکیہ آنے کی آفر کی ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر کی طرف سے عمران خان کو یہ آفر 2025 میں آئی تھی، وہ واحد غیرملکی لیڈر ہیں جنہوں نے پاکستان کے ساتھ اس معاملے پر بات کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی نے کتنے مواقع ضائع کیے؟ مشاہد حسین نے اندر کی بات بتادی
مشاہد حسین نے کہا کہ بڑے مسائل حل کرنے کے لیے یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، دہشتگردی اور معیشت کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لیے سیاسی تصفیہ ضروری ہے۔ سیاست میں کوئی چیز ناممکن نہیں، نومبر 2024 میں عمران خان کی رہائی کا فیصلہ بھی ہوا تھا لیکن ان کے نادان دوستوں نے موقع پر سبوتاژ کردیا۔
سابق سینیٹر نے کہا کہ سیاسی چپقلش 3 سال سے چل رہی ہے، عمران خان نظام کا حصہ ہے، اسٹبلشمنٹ سے ان کا اچھا تعلق رہا، جنرل ضیا اور جنرل باجوہ سے اچھے تعلقات رہے، فوج کے پسندیدہ رہے ہیں اور یہ پسندیدگی بحال بھی ہوسکتی ہے۔














