بلوچستان میں دہشتگرد حملے اور بھارت میں ’دھرندھر‘ کی ایک ہی روز ریلیز نے سوالات پیدا کر دیے

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 30 جنوری کو ہونے والے مہلک دہشتگرد حملے اور اسی روز بھارت میں نیٹ فلکس پر فلم ’دھرندھر‘ کی ریلیز نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام اور سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں واقعات کا ایک ہی روز رونما ہونا محض اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان پہلے ہی بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بھارتی کردار کا الزام عائد کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قومی اسمبلی: سیاستدان دہشتگردی کیخلاف یک زبان، بیرسٹر گوہر نے بلوچستان پر حملہ پورے پاکستان پر حملہ قرار دیدیا

پاکستانی حکام کے مطابق بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے اور ماضی میں بھی ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن میں بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کے روابط کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا اور معاشی و سٹریٹجک منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

حیران کن طور پر انہی حملوں کے روز، یعنی 30 جنوری کو ہی، بھارت میں نیٹ فلکس پر فلم ’دھرندھر‘ ریلیز کی گئی، جس کا موضوع تشدد، خفیہ کارروائیاں اور جارحانہ بیانیہ بتایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس ٹائمنگ کو محض اتفاق قرار دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت ماضی میں بھی فلم، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنے بیانیے کے فروغ اور نفسیاتی دباؤ کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے مواد کی ریلیز کا حساس سکیورٹی واقعات سے ہم وقت ہونا سوالات کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان بارہا عالمی فورمز پر بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی فلم دھرندھر نیٹ فلکس پر ریلیز، اصلی فلم کہاں گئی؟

دفترِ خارجہ پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ بھارت خطے میں دہشتگردی کو بطور پالیسی استعمال کر رہا ہے، جبکہ بلوچستان کو خاص طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حالیہ حملوں کے بعد اسلام آباد نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی سرگرمیوں کا نوٹس لے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق 30 جنوری کے واقعات اور اس دن بھارتی فلم کی ریلیز کو الگ الگ واقعات کے طور پر دیکھنا مشکل ہے، کیونکہ اس سے ایک مخصوص نفسیاتی اور سیاسی پیغام جاتا ہے۔ تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ان معاملات کی غیرجانبدارانہ عالمی تحقیقات ضروری ہیں۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشتگردی کے ہر واقعے کے پیچھے موجود عناصر کو بے نقاب کرتا رہے گا، چاہے وہ اندرونی ہوں یا بیرونی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے ناکام بناتے ہوئے 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 133 دہشتگرد مارے گئے۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشتگرد بیگناہ شہریوں، خواتین، بچوں، بوڑھوں اور مزدوروں کو نشانہ بنا رہے تھے، جس سے عوام میں خوف و پریشانی پھیلی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار

عماد وسیم کی دھمکیاں منظر عام پر، سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے واٹس ایپ چیٹس شیئر دیں

عمران خان کیخلاف شہباز شریف کے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی روک دی گئی

راجوڑی میں عسکریت پسندوں سے بھارتی فوج کی جھڑپیں، 4 اہلکار ہلاک، متعدد شدید زخمی

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر محی الدین نے عماد بٹ پر لگی 2 سال کی پابندی ہٹادی

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب