اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز بلوچستان میں 31 جنوری کو مختلف مقامات پر ہونے والے ’بزدلانہ اور گھناؤنے دہشت گرد حملوں‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، جن میں 48 افراد جان سے گئے، جن میں 31 شہری شامل تھے۔
یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہی گئی، جسے وزارتِ خارجہ نے بھی شیئر کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے ان حملوں کو ’انتہائی قابلِ مذمت‘ قرار دیتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کی بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملوں کی شدید مذمت
یہ بیان ہفتے کے اختتام پر بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے مربوط دہشت گرد حملوں کے بعد سامنے آیا۔ منگل کے روز سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران کالعدم عسکری تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 197 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ ان کارروائیوں میں 22 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
سلامتی کونسل نے متاثرہ خاندانوں، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام سے ’دلی ہمدردی اور تعزیت‘ کا اظہار کیا اور زخمیوں کی ’جلد اور مکمل صحت یابی‘ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
UNSC members strongly condemned the heinous terrorist attacks by BLA in Balochistan on 31 January 2026. They also underlined the need to hold those responsible accountable and for them to be brought to justice. pic.twitter.com/qYPqltOvRM
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) February 4, 2026
کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے‘۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے ناکام بنا دیے، 108 ہلاک، 10 جوان شہید
ارکانِ سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بیان میں تمام ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
سلامتی کونسل نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ’دہشت گردی کے تمام اقدامات ناقابلِ جواز اور مجرمانہ ہیں‘، چاہے ان کا مقصد، وقت، مقام یا مرتکب کوئی بھی ہو، اور ان کے خلاف اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔














