امریکا نے بلوچستان میں حالیہ عسکریت پسند حملوں کے بعد پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور نے کہا کہ وہ ان خوفناک حملوں کے بعد پاکستان کے ساتھ ’ثابت قدمی سے کھڑا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
بیورو برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور نے یاد دلایا کہ بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے امریکا کی جانب سے نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل ہے۔
We stand steadfast with Pakistan in the wake of recent militant attacks in Balochistan. The Balochistan Liberation Army remains a designated Foreign Terrorist Organization, and we support efforts to hold the perpetrators of these horrific attacks accountable.
— Bureau of South and Central Asian Affairs (SCA) (@State_SCA) February 5, 2026
بیان میں کہا گیا کہ ہم ان خوفناک حملوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
اس سے قبل جمعرات ہی کے روز سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں ’آپریشن ردالفتنہ-1‘ مکمل کیا، جس کے دوران کئی روز تک جاری کلیئرنس کارروائیوں میں مجموعی طور پر 216 دہشت گرد مارے گئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن 31 جنوری کو صوبے بھر میں ہونے والے مربوط حملوں کے بعد شروع کیا گیا، جن کے باعث مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔
مزید پڑھیں: آپریشن ردّ الفتنہ-1: بلوچستان میں دہشتگرد نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ، 216 دہشتگرد ہلاک
فوج کے ترجمان کے مطابق ان انٹیلیجنس بنیادوں پر کی گئی کارروائیوں میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ان پرتشدد واقعات کے دوران 36 شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 اہلکاروں نے بھی جانیں قربان کیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگرد حملے اور بھارت میں ’دھرندھر‘ کی ایک ہی روز ریلیز نے سوالات پیدا کر دیے
کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
ان حملوں کی اقوام متحدہ نے بھی مذمت کی ہے، جہاں یو این حکام نے تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔













