امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک اور کشتی کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر منشیات لے کر جا رہی تھی، اس کارروائی میں 2 افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق یہ کشتی نامزد دہشت گرد تنظیموں کے زیرِ انتظام تھی اور منشیات اسمگلنگ کے معروف راستوں پر سفر کر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کیریبین میں مبینہ منشیات سے بھری کشتی پر امریکا کا حملہ، 3 افراد ہلاک
امریکی افواج ستمبر سے اب تک کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں اُن بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جن پر منشیات اسمگل کرنے کا شبہ ہے۔
اس دوران کم از کم 38 مہلک حملے کیے جا چکے ہیں جن میں 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
‼️🇺🇸The US military struck an alleged drug trafficking boat in the eastern Pacific on Feb 5, killing two suspected narco traffickers, according to US Southern Command. pic.twitter.com/UqagYp5E3I
— Defense Intelligence (@DI313_) February 6, 2026
ٹرمپ انتظامیہ نے ان کارروائیوں کو ایک غیر بین الاقوامی مسلح تنازع کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کا جواز پیش کیا ہے، جس کا مقصد لاطینی امریکا سے امریکا آنے والی منشیات کے بہاؤ کو روکنا ہے۔
امریکی سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس کارروائی میں امریکی فوجی اہلکار محفوظ رہے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔
جمعرات کا یہ حملہ رواں سال کا دوسرا حملہ ہے۔ جنوری کے اوائل میں امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیے جانے کے بعد ان حملوں کی رفتار میں واضح کمی آئی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی فوج کی مشرقی بحرالکاہل میں ایک اور کارروائی، 2 کشتیوں پر سوار 5 افراد ہلاک
ٹرمپ انتظامیہ نکولس مادورو پر منشیات اسمگلنگ گروہوں کے ساتھ کام کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔
گزشتہ سال کے اختتامی مہینوں میں چار ماہ کے دوران کم از کم 36 حملے کیے گئے تھے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق اس آپریشن سدرن اسپیئر کا مقصد خطے سے نارکو دہشت گردوں کا خاتمہ اور امریکا کو ان منشیات سے محفوظ بنانا ہے جو مقامی لوگوں کو ہلاک کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: کیریبین میں ایک اور امریکی حملہ: منشیات بردار کشتی پر کارروائی، 4 ہلاک
تاہم بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے غیر قانونی ہو سکتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
کیونکہ ان میں شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مشتبہ افراد کو کسی قسم کا قانونی عمل فراہم نہیں کیا جاتا۔
14 اکتوبر کے ایک حملے میں مارے جانے والے ٹرینیڈاڈ کے 2 شہریوں کے اہلِ خانہ نے بعد ازاں امریکی حکومت کیخلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔
جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ’سفاک، غیر قانونی، محض تفریح اور نمائش کے لیے کیے گئے قتل‘ کے مترادف تھی۔














