امریکی فوج کا مشرقی بحرالکاہل میں منشیات بردار کشتی پر حملہ، 2 افراد ہلاک

جمعہ 6 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک اور کشتی کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر منشیات لے کر جا رہی تھی، اس کارروائی میں 2 افراد ہلاک ہو گئے۔

امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق یہ کشتی نامزد دہشت گرد تنظیموں کے زیرِ انتظام تھی اور منشیات اسمگلنگ کے معروف راستوں پر سفر کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کیریبین میں مبینہ منشیات سے بھری کشتی پر امریکا کا حملہ، 3 افراد ہلاک

امریکی افواج ستمبر سے اب تک کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں اُن بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جن پر منشیات اسمگل کرنے کا شبہ ہے۔

اس دوران کم از کم 38 مہلک حملے کیے جا چکے ہیں جن میں 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ان کارروائیوں کو ایک غیر بین الاقوامی مسلح تنازع کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کا جواز پیش کیا ہے، جس کا مقصد لاطینی امریکا سے امریکا آنے والی منشیات کے بہاؤ کو روکنا ہے۔

امریکی سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس کارروائی میں امریکی فوجی اہلکار محفوظ رہے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔

جمعرات کا یہ حملہ رواں سال کا دوسرا حملہ ہے۔ جنوری کے اوائل میں امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیے جانے کے بعد ان حملوں کی رفتار میں واضح کمی آئی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی فوج کی مشرقی بحرالکاہل میں ایک اور کارروائی، 2 کشتیوں پر سوار 5 افراد ہلاک

ٹرمپ انتظامیہ نکولس مادورو پر منشیات اسمگلنگ گروہوں کے ساتھ کام کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔

گزشتہ سال کے اختتامی مہینوں میں چار ماہ کے دوران کم از کم 36 حملے کیے گئے تھے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق اس آپریشن سدرن اسپیئر کا مقصد خطے سے نارکو دہشت گردوں کا خاتمہ اور امریکا کو ان منشیات سے محفوظ بنانا ہے جو مقامی لوگوں کو ہلاک کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:   کیریبین میں ایک اور امریکی حملہ: منشیات بردار کشتی پر کارروائی، 4 ہلاک

تاہم بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے غیر قانونی ہو سکتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

کیونکہ ان میں شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مشتبہ افراد کو کسی قسم کا قانونی عمل فراہم نہیں کیا جاتا۔

14 اکتوبر کے ایک حملے میں مارے جانے والے ٹرینیڈاڈ کے 2 شہریوں کے اہلِ خانہ نے بعد ازاں امریکی حکومت کیخلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ’سفاک، غیر قانونی، محض تفریح اور نمائش کے لیے کیے گئے قتل‘ کے مترادف تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایک شہر جو دل میں اتر گیا

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

پنجاب حکومت کی نئی ٹرانسپورٹ پالیسی: چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کے لیے 3 سرکاری گاڑیوں کی اجازت

برازیل کی معروف فٹبالر نے اسلام قبول کرلیا، عمرے کی ویڈیو بھی شیئر کردی

آئی ایم ایف وفدمعاشی جائزے کے لیے 25 فروری کو پاکستان آئے گا، اصلاحات کی تعریف

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

ٹی20 ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کس طرح سیمی فائنل کی راہ ہموار کرسکتی ہے؟

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟