نام نہاد لاپتا افراد بیانیے کی آڑ فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب

جمعہ 6 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں نام نہاد لاپتا افراد کے بیانیے کی آڑ میں دہشتگردی کو جواز فراہم کرنے والا فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع اور ماہرین کے مطابق، حالیہ واقعات نے اس امر کی ناقابلِ تردید تصدیق کر دی ہے کہ نام نہاد انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھے یہ نیٹ ورک درحقیقت دہشتگردی کی سہولتکاری میں ملوث ہے۔

31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے کیے گئے بزدلانہ حملوں کو سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں ناکام بنا دیا گیا۔

ان کارروائیوں کے دوران مستونگ میں مارے جانے والے دہشتگردوں میں برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی شامل تھے، جنہیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے نام نہاد لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اسی فہرست میں شامل دیگر دہشتگرد عبدالحمید اور راشد بلوچ بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں جہنم واصل کیے جا چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ دہشتگردوں کے نام نام نہاد لاپتا افراد کی فہرستوں میں سامنے آئے ہوں۔ سال 2025 میں قلات آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والا دہشتگرد صہیب لانگو اور مارچ 2024 میں گوادر حملے میں مارا جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی فہرست میں شامل تھے۔

اسی طرح نیول بیس پر حملے میں ہلاک ہونے والا دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتا افراد کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ نام نہاد لاپتا افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو اخلاقی جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی معصوم بلوچ نوجوانوں کو احساسِ محرومی کے گمراہ کن اور جعلی بیانیے کے ذریعے جذباتی طور پر اپنے جال میں پھنسا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کر دیتی ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی قوم پرستی کے نام پر ریاست مخالف جذبات کو ہوا دے کر مقامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ فتنہ الہندوستان انہی جذبات کو بھڑکا کر نوجوانوں کو مسلح بغاوت اور دہشتگردی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک منظم اور مربوط نیٹ ورک ہے، جسے غیر ملکی معاونت حاصل ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو بھارتی خفیہ ایجنسی را اور بعض نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ مزید یہ کہ یہ نیٹ ورک کم عمر بلوچ بچیوں کو بلیک میلنگ کے ذریعے خود کش حملہ آور بنانے جیسے انسانیت سوز جرائم میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔

29 دسمبر 2025 کو سامنے آنے والے انکشافات کے مطابق، معصوم بلوچ نوجوانوں کی سوشل میڈیا کے ذریعے ذہن سازی اور بھرتی بھی اسی نیٹ ورک کے تحت کی جاتی رہی۔ ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کا نام نہاد سافٹ چہرہ دراصل فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک فریب ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ نام نہاد لاپتا افراد کی فہرستوں میں شامل دہشتگردوں کی ہلاکتوں کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بے بنیاد پروپیگنڈا بری طرح زمیں بوس ہو چکا ہے، اور یہ گٹھ جوڑ اب عوام کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار

عماد وسیم کی دھمکیاں منظر عام پر، سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے واٹس ایپ چیٹس شیئر دیں

عمران خان کیخلاف شہباز شریف کے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی روک دی گئی

راجوڑی میں عسکریت پسندوں سے بھارتی فوج کی جھڑپیں، 4 اہلکار ہلاک، متعدد شدید زخمی

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر محی الدین نے عماد بٹ پر لگی 2 سال کی پابندی ہٹادی

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب