مشرقی زیمبیا میں ایک شخص ہاتھیوں کے جھنڈ سے بچنے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا گیا، لیکن بدقسمتی سے مگرمچھ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 52 سالہ دین نيرندا اپنے دو دوستوں کے ساتھ شکار سے واپس آ رہا تھا کہ اچانک جنگلی ہاتھیوں کے سامنے آ گئے۔ ہاتھیوں سے بچنے کے لیے وہ اور اس کے دوست محفوظ مقام کی تلاش میں بھاگے، اور اس دوران نيرندا نے دریائے لوانگوا کے قریب ایک برساتی نالے میں چھلانگ لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی ریاست آسام میں ٹرین کی ٹکر سے 7 ہاتھی ہلاک
مقامی پولیس چیف روبرٹسن مویمبا نے بتایا کہ جیسے ہی نيرندا نے چھلانگ لگائی، ایک مگرمچھ نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کی دائیں ران پر کاٹ لیا۔ نيرندا نے ہمت دکھائی اور مگرمچھ کو لاٹھی سے مار کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جس کے بعد وہ پانی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔
A huge Crocodile attacks an Elephant crossing the river pic.twitter.com/EkPZxYkggr
— Nature is Amazing ☘️ (@AMAZlNGNATURE) December 3, 2025
دور سے صورتحال دیکھنے والے دو دوست فوراً پہنچے اور اسے دریا کے کنارے منتقل کیا، لیکن شدید خون بہنے کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔
زیمبیا میں ہاتھیوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور پچھلے برسوں میں انسان اور جنگلی جانوروں کے تصادم میں درجنوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ دریائے لوانگوا، جو جنوبی لوانگوا نیشنل پارک سے گزرتا ہے، نیل کے مگرمچھوں کی سب سے بڑی آماجگاہوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت: ’سیریل کلر ہاتھی‘ نے ماہ رواں میں 20 افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا
ریسورس افریقہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں جنگلی جانوروں کی وجہ سے ہونے والی 26 ہلاکتوں میں 15 مگرمچھوں کے حملوں کی وجہ سے ہوئی تھیں، جن میں زیادہ تر دریائے لوانگوا کے علاقے میں پیش آئیں۔
We knew it was coming!…Elephant needed his time to shin! 🤣 pic.twitter.com/Kia15Qx1mn
— Giggle Clips (@GiggleClips) February 7, 2026
زیمبیا کے حکام نے مقامی لوگوں اور سیاحوں پر بارہا زور دیا ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں سفر کے دوران انتہائی احتیاط کریں جہاں جنگلی جانور کثرت سے موجود ہوں۔
یہ واقعہ اس وقت یاد دلایا گیا جب 2021 میں ایک 18 سالہ برطانوی طالبہ میڈلین امیلی اوزبورن اسمتھ پر وکٹوریہ فالز کے قریب دریائے زامبیزی میں مگرمچھ نے حملہ کیا تھا۔













