ایران نے کہا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کی سطح کم کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اپنے یورینیم کے ذخائر بیرون ملک منتقل نہیں کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بات جمعے کو امریکی مذاکرات کے دوران بتائی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران مذاکرات پر ٹرمپ کا خوشگوار اشارہ، امریکا کے پاس کافی وقت ہے، صدر کا مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کسی جلد بازی میں نہیں ہے اور مذاکرات کے لیے وقت موجود ہے، لیکن ایران کو معلوم ہے کہ اگر وہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو اس کے نتائج بہت سخت ہوں گے۔
اسی دن صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت ایران سے متعلق مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں، خاص طور پر ان ممالک پر جو ایرانی اشیا اور خدمات درآمد کرتے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران نے جمعے کے مذاکرات میں یورینیم کی افزودگی ختم کرنے سے صاف انکار کر دیا، اور امریکا کی جانب سے بھی اپنی ابتدائی پوزیشن پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر ٹیرف لگائیں گے، امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی
اسی دوران امریکی وزارت خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں بھی نافذ کیں، جن میں دو افراد، پندرہ ادارے اور چودہ بحری جہاز شامل ہیں۔
یہ پیشرفت اس وقت ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات میں مزید کشیدگی پائی جا رہی ہے، اور دونوں ملک اپنے موقف پر قائم ہیں۔













