ہڑتال کی ناکامی پی ٹی آئی کے جعلی بیانیے کا جنازہ ثابت ہوئی، عوام نے انتشار کی سیاست مسترد کردی، وفاقی وزرا

اتوار 8 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وی نیوز رپورٹرز: سراج الدین، زنیرہ رفیع، لقمان شاہ، غالب نہاد

پشاور سمیت ملک کے دیگر شہروں کے عوام نے 8 فروری کو پاکستان تحریکِ انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا، جسے وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے ’پی ٹی آئی کے جعلی بیانیے کا جنازہ‘ قرار دیا۔ امیر مقام نے کہا کہ عوام نے اپنے روزگار، امن اور استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے ہڑتال کو نظرانداز کیا اور خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہ کر وفاداری کا ثبوت دیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پاکستان کے عوام نے نفرت، انتشار اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ پورے ملک نے پہیہ جام ہڑتال کی کال کو مسترد کر دیا اور شہریوں نے معمول کے مطابق کاروبار اور زندگی جاری رکھ کر ہڑتال کو ناکام ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک ہڑتال کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا اور شہریوں نے اپنی دکانیں کھول کر واضح کر دیا کہ وہ ہڑتال کے پیچھے نہیں ہیں۔

پشاور کے عوام نے آج پی ٹی آئی کے جعلی بیانیے کا جنازہ نکال دیا، امیر مقام

وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے کہا ہے کہ آج پشاور کے عوام نے پی ٹی آئی کے جعلی بیانیے کا جنازہ نکال دیا۔

پشاور میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابی نے عوام کے ذہن بدل دیے اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کے بہادرانہ فیصلوں نے دشمن کو شکست دی۔

انہوں نے کہاکہ سیکیورٹی فورسز ملک کی خاطر لازوال قربانیاں دے رہی ہیں اور خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہ کر وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔

’مسلم لیگ ن ایک بار پھر پشاور کو اپنا مضبوط گڑھ بنائے گی‘

وفاقی وزیر نے پشاور کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج انہوں نے جعلی بیانیے کے جنازے نکال دیے اور عوام کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے عوام کی خوشحالی کو نواز شریف اور شہباز شریف کے ایجنڈے کے ساتھ جوڑا اور کہا کہ مسلم لیگ ن ایک بار پھر پشاور کو اپنا مضبوط گڑھ بنائے گی۔

امیر مقام نے آخر میں واضح کیا کہ خیبر پختونخوا ملک کا ایک اہم حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

جعلی بیانیے کا دور ختم ہو چکا ہے، وزیر امور کشمیر

وفاقی وزیر نے صوبے کے لوگوں کے امن اور روزگار کے مطالبات کو سراہا اور کہاکہ جعلی بیانیے کا دور ختم ہو چکا ہے، 8 فروری کی ہڑتال پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

امیر مقام نے دہشتگردی کے خلاف قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سب کو ایک آواز بنانا ہوگی اور اپنے اداروں کو بدنام کرنے سے ملک کی خدمت نہیں ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ چاہے قدرتی آفات ہوں یا دہشت گردی کا خاتمہ، ہم ہمیشہ فوج کی مدد لیتے ہیں اور ہماری قوم کا جذبہ بھارت کہاں سے لا سکتا ہے۔

پہلی بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ ’پہیہ جام‘ کی کال مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے، عطااللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پہلی بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ ’پہیہ جام‘ کی کال مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام نے نفرت، انتشار اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہاکہ عوام احتجاجی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور پی ٹی آئی کی کال کو سختی سے رد کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے اتوار کے روز بھی گہما گہمی برقرار رہی۔

پورے ملک نے پہیہ جام ہڑتال کی کال کو مسترد کردیا، مراد علی شاہ

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پورے ملک نے پہیہ جام ہڑتال کی کال کو مسترد کر دیا ہے اور ملک ہڑتال کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا۔

یہ بات انہوں نے مائی کراچی نمائش کی اختتامی تقریب کے دوران مختلف اسٹالز کا معائنہ کرنے کے بعد خطاب میں کہی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اتوار کو شہریوں نے اپنی دکانیں کھول کر یہ واضح کر دیا کہ وہ ہڑتال کے پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے سانحے پر کراچی کے عوام کے افسردہ ہونے کا بھی ذکر کیا۔

سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ نمائش میں کئی دوست ممالک نے اسٹالز لگائے اور اپنی مصنوعات پیش کیں، جبکہ کراچی میں عمارتوں کے سروے کا بھی انتظام کیا گیا۔

مزید پڑھیں: 8 فروری احتجاج: ملک بھر میں پہیہ چلتا رہا جبکہ اپوزیشن قیادت غائب رہی

وزیراعلیٰ سندھ نے کے فور منصوبے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی شروعات 10 سے 11 سال قبل ہوئی اور اس حوالے سے وہ خود ذمہ داری لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق نے مین لائن کے کام کی ذمے داری خود سنبھالنے کا اعلان کیا تھا، لیکن ایک شخص نے 3 سے 4 سال کے لیے کے فور پر کام روک دیا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا دعویٰ

تحریک کے مطابق آج پورے ملک میں عوام نے حکومت کیخلاف بھرپور احتجاج کیا اور جعلی نظام کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ تحریک نے کہا کہ یہ دن پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تحریک نے آگے کا لائحہ عمل بھی پیش کیا اور کہا کہ اب ملک بھر میں مشعل بردار ریلیز نکالی جائیں گی، جس میں عوام کو حصہ لینے کی اپیل کی گئی۔ مشعل بردار ریلیز نہ صرف روشنی بلکہ عوام کی اتحاد اور تحریک کے عزم کی علامت ہوں گی۔

ہڑتال کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ شہر بہ شہر جائزہ

ملک میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالنے کے ساتھ ساتھ پہیہ جام ہڑتال کی کال تھی، مگر پشاور سمیت ملک کے  بڑے شہر معمول کے مطابق کھلے رہے جبکہ لاہور میں لوگ بسنت بنانے میں مصروف رہے۔

کوہاٹ: پی ٹی آئی کی ہڑتال عوام نے مسترد کر دی

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ترجمان شفیع جان کے آبائی حلقے کوہاٹ میں  بھی تحریکِ انصاف کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال ناکام ہو گئی۔ شہر اور اس سے ملحقہ تمام بازار معمول کے مطابق کھلے رہے جبکہ شہری خرید و فروخت میں مصروف نظر آئے۔

کاروباری مراکز میں سرگرمیاں جاری رہیں اور عوامی زندگی پر ہڑتال کے کوئی اثرات مرتب نہ ہو سکے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہریوں نے احتجاجی کال کو خاطر میں نہیں لایا۔

گجرات میں کاروبار اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق

پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کو پنجاب کی عوام نے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

گجرات شہر میں کاروباری مراکز کھلے رہے، دکانوں اور مارکیٹوں میں معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں، پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بھی حسبِ معمول رواں دواں رہی جس سے یہ ثابت ہوا کہ عوام نے ہڑتال میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔

شہریوں کے مطابق ہڑتال کی کال کے باوجود روزمرہ زندگی متاثر نہیں ہوئی اور عوام نے امن، استحکام اور معاشی سرگرمیوں کو ترجیح دی۔

سکھر میں تاجر برادری پی ٹی آئی کے احتجاج سے لاعلم

سکھر میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کو تاجر برادری نے مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔

شہر بھر میں بازار اور دکانیں کھلی ہیں، کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئی جس سے یہ ہڑتال غیر مؤثر ثابت ہوئی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سکھر میں زندگی حسبِ معمول رواں دواں ہے اور عوام نے ہڑتال یا احتجاج کے بجائے اپنے روزمرہ معاملات کو ترجیح دی۔

راولپنڈی میں ٹریفک رواں دواں

راولپنڈی میں تمام مارکیٹیں کھلی ہیں اور مری روڈ، آئی جے پی روڈ، پشاور روڈ اور صدر مال روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں رہی۔ صدر، راجہ بازار اور کمرشل مارکیٹ سمیت تمام بڑے بازار کھلے رہے، جبکہ تاجر تنظیموں اور ٹرانسپورٹرز نے شٹرڈاؤن اور پہیہ جام کی کال مسترد کر دی۔ صدر راولپنڈی سے فیض آباد تک ٹریفک کی روانی برقرار ہے۔

تاہم ممکنہ احتجاج کے پیش نظر مری روڈ پر پولیس نفری تعینات ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس صدر اسٹیشن تا پاک سیکرٹریٹ مکمل بند کر دی گئی ہے جبکہ راولپنڈی میں الیکٹرک اور گرین بس سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔

تحریکِ انصاف کی جانب سے دی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کو راولپنڈی کی عوام اور تاجر برادری نے مسترد کر دیا۔ شہر کے اہم ترین تجارتی مرکز راجہ بازار میں تمام دکانیں حسبِ معمول کھلی رہیں اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر جاری رہیں۔

بازار میں خریداروں کی آمد و رفت معمول کے مطابق رہی جبکہ ٹرانسپورٹ بھی رواں دواں دیکھی گئی۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ وہ ہڑتالوں کے بجائے امن، استحکام اور روزگار کے تسلسل کے حامی ہیں۔

تحریکِ انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی شٹر ڈاؤن احتجاجی ہڑتال کے باوجود لال حویلی اور گرد و نواح میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ علاقے میں تمام چھوٹی بڑی دکانیں مکمل طور پر کھلی رہیں جبکہ خریداروں کی آمدورفت بھی معمول کے مطابق دیکھی گئی۔

تاجروں نے ہڑتال کی کال کو مسترد کرتے ہوئے اپنے کاروبار کھلے رکھے اور روزمرہ کی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ شہر میں کسی قسم کا دباؤ یا زبردستی دیکھنے میں نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی 8 فروری کی ہڑتال کامیاب بنانے کے لیے کیا تیاریاں کر رہی ہے؟

تحریکِ انصاف کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال مری روڈ، راولپنڈی میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ علاقے میں تمام کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے ہیں جبکہ خرید و فروخت اور روزمرہ سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں۔

مری روڈ پر ٹریفک کی روانی بھی معمول کے مطابق دیکھی گئی، عوام نے ہڑتال کی کال کو خاطر میں نہیں لایا۔ شہریوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ کاروبار کے تسلسل اور امن و امان کو ترجیح دیتے ہیں۔

صورتحال کے مطابق مری روڈ پر زندگی رواں دواں ہے اور ہڑتال کے کوئی اثرات نظر نہیں آئے۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور شہر بھر میں سخت انتظامات نافذ ہیں۔ 4300 سے زائد افسران و اہلکار سکیورٹی اور ٹریفک فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ تمام سینئر افسران فیلڈ میں موجود رہ کر صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ شہر کے 82 مقامات پر خصوصی پکٹس قائم ہیں اور داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ جاری ہے۔ راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے، غیر قانونی اجتماع، دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں جبکہ ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد ہے۔

 کوئٹہ: ہڑتال کے بعد شہر کی صورتحال معمول پر، اہم سڑکیں کھل گئیں

کوئٹہ میں جاری ہڑتال کے بعد شہر کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ پولیس نے شہر کے مختلف اہم راستوں کو کھولا ہے تاکہ عوام اور تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

کھولی جانے والی اہم سڑکوں اور علاقوں میں بی اے مال، المو ایئرپورٹ، ایئر پورٹ ٹرن، پشین اسٹاپ، اسپینی روڈ، خیزی چوک، جبل نور، سرکی روڈ، اخترمحمد روڈ، سیٹلائٹ، کوچلاک کے 3 مختلف پوائنٹس، سونا خان، جٹک اسٹاپ اور ڈاکانی بابا چوک شامل ہیں۔

پولیس اب مغربی بائی پاس پر سرگرم ہے اور وہاں بھی راستے کھولنے کی کارروائی جاری ہے۔

حفاظتی اقدامات اور گرفتاریاں

حکام کے مطابق ہڑتال کے دوران کل 60 افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے شہر کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر نفری تعینات ہے اور انٹرمیٹنٹ (وقفے وقفے سے) کارروائی جاری ہے تاکہ عوام کو معمول کی زندگی میں کم سے کم رکاوٹ کا سامنا ہو۔

ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ کے مطابق شہر میں حالات اب تقریباً معمول کے مطابق ہیں، عوام کی حفاظت اور ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بھی 8 فروری کی ہڑتال ناکام

پشاور میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام احتجاجی کال کو عوام نے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

پشاور میں ورکرز ہشتنگری چوک پہنچا شروع ہوگئے ہیں البتہ صدر، قصہ خوانی، فقیر آباد، ہشتنگری جی ٹی روڈ مارکیٹ اور دکانیں کھلی ٹرنسپورٹ بحال ہے بی آر ٹی بھی معمول کے مطابق چل رہی ہے

شہریوں نے واضح کیا کہ وہ ہڑتال اور پہیہ جام کی سیاست کے خلاف ہیں۔ روزگار، تعلیم اور آمد و رفت کے معمولات متاثر نہیں ہونے دیں گے۔ مسائل کے حل کے لیے جمہوری اور قانونی طریقے ترجیح دیتے ہیں۔

پشاور سے ہمارے نمائندے سراج الدین کے مطابق پشاور میں  پی ٹی آئی کی احتجاجی ریلی چوک یادگار پہنچ گئی۔ ورکرز نے ہشتنگری سے چوک یادگار تک مارچ کیا۔ چوک یادگار میں قائدین خطاب کریں گے۔

تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار کا کہنا ہے کہ آج کا پرامن احتجاج اور واک ہے۔ آج ہم دہشتگردی اور دھاندلی کے خلاف نکلے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے دور میں دہشتگردی ختم ہوئی تھی۔

شاندانہ گلزار کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جو ظلم ہوا ہے اس کے خلاف نکلے ہیں۔ دوسری طرف صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے دعویٰ کیا کہ آج پشاور میں مکمل شٹر ڈاون اور پہہ جام ہے۔

 کوئٹہ میں پی ٹی آئی کی ہڑتال: شہر میں ٹریفک اور کاروبار متاثر

کوئٹہ میں پاکستان تحریکِ انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری رہی، جس کے نتیجے میں شہر کی اہم سڑکیں جزوی طور پر بلاک ہو گئیں اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

سریاب روڈ، ائیرپورٹ روڈ، پشین اسٹاپ، مغربی بائی پاس اور دیگر اہم علاقوں میں مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں، جس سے شہر میں ٹریفک معمول سے کم دکھائی دی۔

پولیس موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کے منتشر ہونے کے بعد اہم سڑکوں پر ٹریفک بحال کر دی گئی۔

ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ زبردستی دکانیں اور سڑکیں بند نہیں ہونے دی جائیں گی۔ ہڑتال کے دوران سڑکیں بند کرنے والوں کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا جائے گا

بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت پبلک اجتماعات اور ہڑتال کی کال پر قانونی کارروائی ممکن ہے۔

شہر کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر پولیس کی نفری تعینات ہے جبکہ ائیرپورٹ روڈ اور مغربی بائی پاس پر ٹریفک بحال ۔ البتہ ریڈ زون اور پریس کلب کے راستے سیل کیے گئے ہیں۔ راستوں میں ٹرک اور بیئر کھڑے کیے گئے تاکہ مظاہرین کو سڑکیں بند کرنے سے روکا جا سکے۔

شہر کے چھوٹے اور بڑے کاروباری مراکز میں ہڑتال کے اثرات دیکھنے کو ملے، تاہم انتظامیہ کے موثر اقدامات کی وجہ سے بڑے حادثات یا جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان کا بیان

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند کا کہنا ہے کہ بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے، کسی بھی قسم کے غیر قانونی ہڑتال اجتماع یا روڑ بندش کی اجازت نہیں ہے۔

بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت کسی بھی سڑک کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ احتجاج کے نام پر سڑک بند کرنے والوں کے خلاف پولیس کو سخت کارروائی کے واضح احکامات ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا، قانون سب کے لیے برابر ہے۔

ایبٹ آباد میں پی ٹی آئی کی ہڑتال ناکام

ایبٹ آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔

شہر بھر میں بازار اور دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ عوام اپنے روزمرہ کے امور بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دے رہے ہیں۔

ایبٹ آباد میں پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بھی رواں دواں ہے، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ہڑتال اور پہیہ جام کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ امن، استحکام اور روزگار کے حق میں ہیں۔ انہیں معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے والے اقدامات قبول نہیں ہیں۔

حویلیاں میں شٹر ڈاؤن نہ ہی پہیہ جام

خیبر پختونخوا کے عوام نے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی جانے والی ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق جاری رہے اور کسی قسم کا پہیہ جام دیکھنے میں نہیں آیا۔

حویلیاں سمیت مختلف شہروں میں بازار اور کاروباری مراکز کھلے ہوئے ہیں۔ ٹریفک رواں دواں ہے۔ عوام نے روزمرہ کی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رکھی ہوئی ہیں۔ جس سے ہڑتال کی کال غیر مؤثر ثابت ہورہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ امن و استحکام چاہتے ہیں، روزگار اور کاروبار کو متاثر کرنے والی سیاست کو مسترد کرتے ہیں اور ہڑتال اور پہیہ جام کے بجائے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

مانسہرہ میں زبردستی دکانیں بند کرانے کی کوشش

مانسہرہ میں شرپسند عناصر کی جانب سے زبردستی دکانیں بند کرانے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث علاقے میں صورتحال سخت کشیدہ ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق شرپسند عناصر نے بازار میں دکانداروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، تاہم تاجروں کی جانب سے مزاحمت کی گئی جس کے نتیجے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ دکانداروں کے متحد ہونے اور مزاحمت کے باعث شرپسند عناصر اپنے مقصد میں ناکام رہے اور بعدازاں وہاں سے واپس لوٹ گئے۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم کسی تصادم کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم اس موقع پر انتظامیہ غائب ہوگئی۔ شہریوں اور تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو زبردستی اور دھونس کے ذریعے معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔

مانسہرہ میں پی ٹی آئی کی طرف سے احتجاج کی صورت حال

مانسہرہ کی تازہ صورتِ حال کے مطابق مارکیٹس اور بازاروں میں معمول کے مطابق گہماگہمی ہے۔ لوگوں کے مطابق  صبح سویرے چند شرپسند عناصر نے زبردستی دکانیں بند کروانے کی کوشش کی، تاہم بعدازاں کاروبار معمول کے مطابق کھل گئے۔

واضح رہے کہ تحریکِ تحفظ آئینِ پاکستان کی جانب سے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 8 فروری کو احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا جس کی روشنی میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالنے کا پروگرام جاری کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: 8 فروری احتجاج کی کال، پی ٹی آئی پنجاب کی کارکنوں کے لیے ہدایات جاری

پی ٹی آئی کے مطابق خیبرپختونخوا میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام احتجاج ہوگا، جس کے لیے ٹرانسپورٹرز اور تاجر رہنماؤں کی مکمل حمایت حاصل کرلی گئی ہے۔

لاہور میں کیا صورت حال ہے؟

لاہور میں پی ٹی آئی کی طرف سے ہڑتال اور احتجاج کے مناظر کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ البتہ یہاں کی  بالخصوص نوجوان نسل بسنت فیسٹیول انتہائی جوش و جذبے، رنگا رنگ تقریبات اور خوشگوار ماحول کے ساتھ منانے میں مصروف ہے۔ طویل عرصے بعد بسنت کی واپسی پر شہر بھر میں عید جیسا سماں ہے اور ہر عمر کے افراد اس تہوار کو بھرپور انداز میں انجوائے کر رہے ہیں۔

بسنت کے موقع پر لاہور کی چھتیں پتنگ بازوں سے بھر ی ہوئی ہیں، جبکہ آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سجا ہوا ہے۔ گلی محلوں، سڑکوں اور بازاروں میں پیلے رنگ کی بہار ہے، لوگ بسنت کی مناسبت سے خصوصی کپڑے پہنے، خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اور خوب چہل پہل ہے۔

@cnn

Basant, a historic kite flying festival that had been banned for 25 years for safety reasons has finally returned to the Pakistani city of Lahore this weekend amidst much joy and excitement. Activities around the long awaited spring festival have been toned down after a deadly suicide attack killed dozens in the capital on Friday.

♬ original sound – CNN

بسنت فیسٹیول کے دوران پتنگ بازی کے مقابلے، ڈھول کی تھاپ، روایتی موسیقی اور مقامی کھانوں کے اسٹالز نے جشن کو مزید یادگار بنا دیا ہے۔ خاندانوں، نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد تقریبات میں شریک ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لاہور میں خود پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی چھتوں پر چڑھی ہوئی ہے اور خوب جوش و خروش سے بسنت منانے میں مصروف ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط

گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟