بھارت میں دفاعی بیانیہ تشکیل دینے اور اسے اندرون و بیرونِ ملک پھیلانے کی ذمہ داری بڑی حد تک ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز (DPR) پر عائد ہے، جو وزارتِ دفاع (MoD) کا مرکزی ابلاغی و اسٹریٹجک میسجنگ بازو سمجھا جاتا ہے۔
ڈی پی آر کا کردار:
ڈی پی آر کا بنیادی کام بھارتی مسلح افواج اور دفاعی پالیسی سے متعلق ایسی معلومات اور بیانیہ تشکیل دینا ہے جو عوامی رائے، میڈیا کوریج اور بین الاقوامی تاثر کو متاثر کرسکے۔ اس کے ذریعے فوجی سرگرمیوں کو مثبت انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور حساس معاملات پر ریاستی مؤقف کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا۔بھارت دفاعی معاہدہ: ٹرمپ کی دوہری محبت
اہم ذمہ داریاں اور سرگرمیاں:
ڈی پی آر کی سرگرمیوں میں میڈیا ریلیشنز، پریس بریفنگز، ڈیجیٹل آؤٹ ریچ، سوشل میڈیا مہمات، فوجی مشقوں کی تشہیر اور عوامی آگاہی کی مہمات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیانیاتی نگرانی (Narrative Monitoring) ،غلط معلومات کے تدارک اور معلوماتی جنگ (Information Warfare) کے پہلو بھی اس کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔
علاقائی اور بین الاقوامی مہمات:
ڈی پی آر نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ پڑوسی ممالک اور عالمی سطح پر بھی تعلقاتِ عامہ کی سرگرمیاں چلاتا ہے، جن کا مقصد بھارتی دفاعی پالیسی کو ’ذمہ دار اور طاقتور‘ کے طور پر پیش کرنا بتایا جاتا ہے۔
تنظیمی ڈھانچہ:
ڈی پی آر ایک وسیع نیٹ ورک رکھتا ہے جس میں مرکزی قیادت، علاقائی دفاتر، تینوں مسلح افواج سے منسلک یونٹس اور ایک بڑا افرادی ڈھانچہ شامل ہے۔ یہ ادارہ براہِ راست وزارتِ دفاع کے تحت کام کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا خوف: بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ
بجٹ اور اخراجات:
کھلے ذرائع اور سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق، ڈی پی آر کے لیے مختص رقوم کو ابلاغی سرگرمیوں، عملے کی تنخواہوں، میڈیا پروڈکشن، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ہنگامی مہمات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ مکمل تفصیلات عوامی سطح پر محدود ہیں، تاہم مجموعی طور پر یہ بجٹ دفاعی شعبے میں ’اسٹریٹجک کمیونیکیشن‘ کے نام پر ایک قابلِ ذکر حصہ بن چکا ہے۔
ڈیفنس تھنک ٹینکس کا کردار:
ڈی پی آر کے ساتھ ساتھ مختلف دفاعی تھنک ٹینکس بھی وزارتِ دفاع اور مسلح افواج کو اسٹریٹجک ریسرچ، پالیسی تجزیہ اور مشاورتی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہ ادارے بیانیہ سازی اور پالیسی جواز فراہم کرنے میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔
مشترکہ بجٹ تصویر:
ڈی پی آر اور دفاعی تھنک ٹینکس کے لیے مختص مجموعی فنڈز بھارت کے دفاعی ابلاغ اور علمی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جسے ناقدین ایک منظم ریاستی پروپیگنڈا ایکو سسٹم قرار دیتے ہیں۔














