پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ نام نہاد اسلامک امارتِ افغانستان (آئی ای اے) کے یکطرفہ، غیر مصدقہ اور غیر مستند الزامات پر مبنی ہے، جن کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: طالبان نے افغانستان میں نائن الیون سے بھی زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دیے، صدر آصف علی زرداری
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان نے افغانستان کے اندر کسی بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف اُن دہشتگرد عناصر کے خلاف تھیں جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولتکاری اور عمل درآمد میں براہِ راست ملوث تھے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت پاکستان کے قانونی حقِ دفاع کے دائرے میں، درست انٹیلیجنس کی بنیاد پر، امتیازی اور متناسب طاقت کے استعمال کے اصولوں کے مطابق کیے گئے، جن میں شہری آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے سے مکمل اجتناب کیا گیا۔
مزید پڑھیں: طالبان حکومت پر پابندی کا امکان، امریکی کمیشن نے افغانستان کو ’خاص توجہ والا ملک‘ قرار دینے کی تجویز دیدی
دفتر خارجہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ کسی کارروائی کے دوران عام شہری متاثر ہوئے، اور کہا کہ ایسے دعوے اُن عناصر کو بچانے کی کوشش ہیں جو دہشتگرد گروہوں کو پناہ اور سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ حقائق پر مبنی، غیر جانبدار اور قابلِ تصدیق معلومات کی بنیاد پر رپورٹس مرتب کرے اور یکطرفہ الزامات کو ریاستی مؤقف کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرے۔













