سائنس دانوں نے پہلی بار ایک تحقیق میں یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کے قریبی رشتہ دار بندر بھی تصوراتی یا فرضی کھیل کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ دریافت اس خیال کو چیلنج کرتی ہے کہ تخیل، فرضی دوست یا ’پریٹینڈ پلے‘ صرف انسانوں تک محدود ہے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ بنوبو بندر تخیل استعمال کرنے کی ذہنی صلاحیت رکھتے ہیں اور بیک وقت حقیقت اور تصور کے فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔ تحقیق کے مرکزی مصنف اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہرِ ادراک کرسٹوفر کروپینیے کے مطابق یہ دریافت جانوروں کی ذہنی دنیا کے بارے میں ہمارے روایتی تصورات کو بدل دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹائم میگزین نے مصنوعی ذہانت کے معماروں کو رواں سال کا پرسن آف دی ایئرقرار دے دیا
تحقیق کے لیے کانزی نامی نر بنوبو پر تجربات کیے گئے، جو امریکا کے شہر ڈیس موئنز میں ایپ انیشی ایٹو میں رہتا تھا اور بولی جانے والی انگریزی کی کچھ سمجھ بوجھ رکھتا تھا۔ سائنس دانوں نے تین تجربات ترتیب دیے جنہیں ’چائے پارٹی‘ سے تشبیہ دی گئی۔ ایک تجربے میں محقق نے خالی کپوں میں فرضی جوس انڈیلا اور کانزی سے پوچھا کہ جوس کہاں ہے۔ کانزی نے درست کپ کی نشاندہی کی، جو محض اتفاق سے کہیں زیادہ تھی۔
دوسرے تجربے میں ایک کپ میں اصل جوس اور دوسرے میں فرضی جوس تھا، جہاں کانزی نے حقیقی جوس والے کپ کی طرف اشارہ کیا۔ تیسرے تجربے میں فرضی انگور استعمال کیے گئے، جن کی جگہ بھی کانزی نے درست بتائی۔
یہ بھی پڑھیے: پانامہ کے جزیرے پر بندروں نے ساتھی بندروں کے بچوں کو اغوا کرنا شروع کر دیا
ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ بنوبو بیک وقت مختلف ممکنہ حقائق پر غور کر سکتے ہیں۔ ماہرینِ بشریات کا کہنا ہے کہ یہ صلاحیت شاید انسان اور بنوبو کے مشترکہ ارتقائی اجداد سے منتقل ہوئی ہو۔
سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ تخیل کی یہ صلاحیت جانوروں کو مستقبل کے ممکنہ حالات کے لیے ذہنی تیاری میں مدد دیتی ہے۔













