عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے بینکاری شعبے کے آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم قرار دے دیا ہے۔
موڈیز کے مطابق یہ فیصلہ بتدریج معاشی بحالی، مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری اور بیرونی کھاتوں کی صورتحال میں استحکام کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان معیشت کی بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ہارورڈ کانفرنس میں خطاب
پیر کو جاری بیان میں موڈیز نے کہا کہ پاکستان میں بینکاری شعبے کا آپریٹنگ ماحول آہستہ آہستہ بہتر ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومتی اصلاحات ہیں جو اعتماد اور معاشی سرگرمیوں کو تقویت دے رہی ہیں۔
تاہم ایجنسی کے مطابق اثاثہ جاتی معیار اور منافع کے حوالے سے بعض چیلنجز بدستور موجود ہیں، اس کے باوجود آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران بینکوں کی مجموعی مالی کارکردگی مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
Moody's has revised Pakistan's banking sector outlook to stable, citing a gradual economic recovery amid ongoing challenges related to asset quality and profitability, with a forecasted GDP growth of 3.5% for 2026. https://t.co/KgcK6Xljvz
— Investify Pakistan (@investifypk) February 9, 2026
موڈیز کا کہنا ہے کہ بینکاری شعبے کا آؤٹ لک حکومتِ پاکستان کے آؤٹ لک سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ بینکوں کے اثاثوں کا تقریباً نصف حصہ حکومتی سیکیورٹیز پر مشتمل ہے۔
تاہم ایجنسی نے خبردار کیا کہ مالیاتی کمزوریوں اور بیرونی خطرات کے باعث پاکستان کے طویل المدتی قرضوں کی پائیداری اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
موڈیز کے مطابق پاکستان میں حقیقی جی ڈی پی نمو 2026 میں بڑھ کر 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو 2025 میں 3.1 فیصد تھی۔
مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
اسی طرح مہنگائی کی شرح 2024 میں 23 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 4.5 فیصد تک آ گئی، تاہم بیس ایفیکٹس کے باعث 2026 میں اس کے دوبارہ بڑھ کر 7.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے باعث پالیسی ریٹس میں نرمی آئی ہے، جس سے قرضوں کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔
اگرچہ شرح سود میں کمی کے بعد مارجنز پر دباؤ آیا، تاہم کاروباری حجم میں اضافہ، نان انٹرسٹ آمدن اور مستحکم اخراجات منافع اور سرمایہ جاتی بفرز کو سہارا دیں گے۔
مزید پڑھیں: کرپٹو مائننگ: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے سنگ میل یا خطرناک تجربہ؟
موڈیز نے حالیہ سیلابوں کے باعث زرعی پیداوار پر دباؤ کا خدشہ ظاہر کیا، تاہم صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں سرگرمیوں کے مستحکم رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے اوائل میں ایڈوانسز ٹو ڈیپازٹس ریشو ٹیکس کے خاتمے کے بعد قرضوں میں کمی کے باعث نان پرفارمنگ لونز میں اضافہ ہوا۔
ستمبر 2025 تک قرضے بینکاری اثاثوں کا 23 فیصد تھے، تاہم بہتر معاشی حالات کے باعث 2026 میں ڈبل ڈیجٹ کریڈٹ گروتھ کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت اہم موڑ پر پہنچ چکی، ہم برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں، وزیر خزانہ
موڈیز کا کہنا ہے کہ قرض لینے والوں کی نادہندگی، خصوصاً زراعت اور توانائی کے شعبوں میں، برقرار رہنے کا امکان ہے.
تاہم کم قرض لاگت کے باعث مسئلہ جاتی قرضوں کی شرح مجموعی طور پر 8 فیصد کے آس پاس مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
ستمبر 2025 تک ٹائر ون اور مجموعی کیپیٹل ریشوز بالترتیب 18 فیصد اور 22.1 فیصد رہے، جو ریگولیٹری تقاضوں سے کہیں زیادہ ہیں۔














