موڈیز نے پاکستان کے بینکاری شعبے کا آؤٹ لک مثبت سے مستحکم کر دیا

پیر 9 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے بینکاری شعبے کے آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم قرار دے دیا ہے۔

موڈیز کے مطابق یہ فیصلہ بتدریج معاشی بحالی، مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری اور بیرونی کھاتوں کی صورتحال میں استحکام کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان معیشت کی بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ہارورڈ کانفرنس میں خطاب

پیر کو جاری بیان میں موڈیز نے کہا کہ پاکستان میں بینکاری شعبے کا آپریٹنگ ماحول آہستہ آہستہ بہتر ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومتی اصلاحات ہیں جو اعتماد اور معاشی سرگرمیوں کو تقویت دے رہی ہیں۔

تاہم ایجنسی کے مطابق اثاثہ جاتی معیار اور منافع کے حوالے سے بعض چیلنجز بدستور موجود ہیں، اس کے باوجود آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران بینکوں کی مجموعی مالی کارکردگی مستحکم رہنے کی توقع ہے۔

موڈیز کا کہنا ہے کہ بینکاری شعبے کا آؤٹ لک حکومتِ پاکستان کے آؤٹ لک سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ بینکوں کے اثاثوں کا تقریباً نصف حصہ حکومتی سیکیورٹیز پر مشتمل ہے۔

تاہم ایجنسی نے خبردار کیا کہ مالیاتی کمزوریوں اور بیرونی خطرات کے باعث پاکستان کے طویل المدتی قرضوں کی پائیداری اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

موڈیز کے مطابق پاکستان میں حقیقی جی ڈی پی نمو 2026 میں بڑھ کر 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو 2025 میں 3.1 فیصد تھی۔

مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

اسی طرح مہنگائی کی شرح 2024 میں 23 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 4.5 فیصد تک آ گئی، تاہم بیس ایفیکٹس کے باعث 2026 میں اس کے دوبارہ بڑھ کر 7.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے باعث پالیسی ریٹس میں نرمی آئی ہے، جس سے قرضوں کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔

اگرچہ شرح سود میں کمی کے بعد مارجنز پر دباؤ آیا، تاہم کاروباری حجم میں اضافہ، نان انٹرسٹ آمدن اور مستحکم اخراجات منافع اور سرمایہ جاتی بفرز کو سہارا دیں گے۔

مزید پڑھیں: کرپٹو مائننگ: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے سنگ میل یا خطرناک تجربہ؟

موڈیز نے حالیہ سیلابوں کے باعث زرعی پیداوار پر دباؤ کا خدشہ ظاہر کیا، تاہم صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں سرگرمیوں کے مستحکم رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 کے اوائل میں ایڈوانسز ٹو ڈیپازٹس ریشو ٹیکس کے خاتمے کے بعد قرضوں میں کمی کے باعث نان پرفارمنگ لونز میں اضافہ ہوا۔

ستمبر 2025 تک قرضے بینکاری اثاثوں کا 23 فیصد تھے، تاہم بہتر معاشی حالات کے باعث 2026 میں ڈبل ڈیجٹ کریڈٹ گروتھ کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت اہم موڑ پر پہنچ چکی، ہم برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں، وزیر خزانہ

موڈیز کا کہنا ہے کہ قرض لینے والوں کی نادہندگی، خصوصاً زراعت اور توانائی کے شعبوں میں، برقرار رہنے کا امکان ہے.

تاہم کم قرض لاگت کے باعث مسئلہ جاتی قرضوں کی شرح مجموعی طور پر 8 فیصد کے آس پاس مستحکم رہنے کی توقع ہے۔

ستمبر 2025 تک ٹائر ون اور مجموعی کیپیٹل ریشوز بالترتیب 18 فیصد اور 22.1 فیصد رہے، جو ریگولیٹری تقاضوں سے کہیں زیادہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط

گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟