ارب پتی ٹیکنالوجی ماہر دنیا کی امیر ترین شخصیت اور ٹیسلا، اسپیس ایکس اور دیگر بڑی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے ایک مریخ پر انسانی مشن کے منصوبے کو پس منظر میں ڈالتے ہوئے چاند پر انسانی آبادکاری کو اپنی ترجیح قرار دے دیا ہے، مریخ کے مقابلے میں چاند پر انسانوں کو بسانا زیادہ قریب اور قابلِ حصول ہدف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریخ مشن: ناسا کے خلائی جہاز نے چپ سادھ لی، وجہ سمجھ سے باہر
اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ ان کی کمپنی اسپیس ایکس اب چاند پر ایک خود کفیل شہر تعمیر کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی۔
ان کے مطابق ایسا شہر ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں قائم کیا جاسکتا ہے، جبکہ مریخ پر اسی نوعیت کا منصوبہ مکمل ہونے میں 20 سال سے زائد وقت لگ سکتا ہے۔
ایلون مسک کا کہنا تھا کہ تہذیب کے مستقبل کو محفوظ بنانا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے چاند زیادہ تیز راستہ فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چاند کی کھوج میں نیا قدم، سائنس دانوں نے جدید روبوٹک مشن متعارف کرا دیا
انہوں نے وضاحت کی کہ مریخ کا سفر صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب دونوں سیارے ہر 26 ماہ بعد مخصوص ترتیب میں آتے ہیں اور اس سفر میں تقریباً 6 ماہ لگتے ہیں، جبکہ چاند کے لیے ہر 10 دن بعد لانچ ممکن ہے اور سفر کا دورانیہ تقریباً 2 دن ہے۔
ایلون مسک نے خود کفیل شہر کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم اندازہ ہے کہ اس میں بجلی، پانی اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات وہیں پیدا کی جائیں گی تاکہ زمین پر انحصار کم سے کم ہو۔
یہ بھی پڑھیں: انسان مریخ پر کہاں اترے گا؟ جگہ کا تعین ہو گیا
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسپیس ایکس مریخ پر شہر بسانے کے منصوبے سے دستبردار نہیں ہو رہی اور 5 سے 7 سال کے اندر اس پر عملی کام شروع کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ اسپیس ایکس 2 ہزار 26 کے آخر تک بغیر عملے کے اسٹارشپ کو مریخ پر اتارنے کی کوشش کرے گی۔














