مولانا، افغانستان اور پاکستان

منگل 10 فروری 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مولانا فضل الرحمان صاحب نے پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سوال پوچھا ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی 78 سال میں ناکام کیوں رہی ؟  مولانا کے سارے احترام کے باوجود سوال یہ ہےکہ 78 سال کا یہ سارا مشاعرہ اس زمین پر کیوں؟ ایک غزل اس پر کیوں نہ ہو جائے کہ  افغان کی پاکستان پالیسی ان 78 سالوں میں کیا تھی؟

ہمارے ملک میں یہ ایک رسم سی بن گئی ہے کہ دنیا میں کہیں بھی پاکستان کا کوئی مسئلہ ہو یا کوئی تلخی ہو، ہمارے ہاں پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے اور یہ بات اصول کے درجے میں طے کر لی گئی ہے کہ دوسرے ممالک نے جو بھی کیا ہو گا درست ہی کیا ہوگا البتہ پاکستان نے جو بھی کیا ہو گا، یقینا غلط کیا ہوگا۔ جب چیزوں کو اس اصول پر جانچا جائے گا تو پھر منطقی طور پر نتیجہ فکر یہی ہوتا ہے کہ: پاکستان کی افغان پالیسی 78 سال میں ناکام کیوں رہی ۔ یعنی ایک دو سال کی گنجائش بھی نہیں دی جا سکتی، ایک تو پاکستان کی پالیسی ناکام ہےاور دوسرا 78 سال سے ہی ناکام ہے۔

توجہ دلائی جائے تو کہا جاتا ہے کہ مولانا پاکستان کے شہری ہیں اس لیے وہ تو پاکستان ہی کی غلطیوں پر بات کریں گے۔ شہریت کا یہ نیا اصول بھی آدمی کو حیران دیتا ہے جس میں اپنی ریاست کو کبھی کٹہرے سے باہر نہیں آنے دیا جاتا اور فریق ثانی سے کبھی کوئی سوال نہیں ہوچھا جاتا ۔ امور خارجہ جب داخلی سیاست کا عنوان بن جائیں تو یہی ہوتا ہے۔ حقائق البتہ اس سے مختلف ہیں۔ اصلاح احوال کے لے ان حقائق  سے آگہی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

پاکستان معرض وجود میں آیا، افغانستان پڑوسی تھا، مسلمان بھی تھا لیکن اس نے کیا کیا؟ اقوام متحدہ میں ہمارے خلاف ووٹ دے دیا۔ ( جو بعد میں اگر چہ واپس لے لیا گیا) لیکن کیا کسی کو احساس ہے اس سے پاکستان پر کیا بیتی؟

پاکستان کے وجود کو سب سے پہلے کس نے تسلیم کرنے سے انکار کیا؟ افغانستان نے۔

پاکستان کے وجود کو مٹانے کے لیے سب سے پہلی کوشش کہاں سے ہوئی؟ افغانستان سے۔

 پاکستان کے خلاف پہلی فوج کشی کس نے کی؟ افغانستان نے۔

پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز کس نے کیا؟ افغانستان نے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کو بطور گورنر جنرل پاکستان پہلی دھمکی کس ملک کے سفیر نے دی؟ افغانستان کے سفیر نے۔

پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کی ابتدا کس نے کی؟ افغانستان نے۔

پاکستان میں دہشتگردی کے لے پہلا کیمپ کس حکومت نے قائم کیا؟ افغانستان نے۔

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر ببرک کس ملک کا باشندہ تھا؟ افغانستان کا۔

مزید پڑھیے: ایک تھا ونڈر بوائے

پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کی بنیاد کس نے رکھی؟ افغانستان نے۔

 پاکستان کے خلاف پہلی دہشتگرد تنظیم ’پشتون زلمے‘ کس کی سرپرستی میں تشکیل دی گئی؟ افغانستان کی۔

بلوچستان میں شورش اور بغاورت کا سرپرست کون تھا؟ افغانستان۔

پاکستان کے علاقوں کو الگ ریاست بنا کر اس کی اسمبلی، اس کا پرچم تک کس ملک میں تیار ہوا؟ افغانستان میں۔

پاکستان کے ایک صوبے کو پشتونستان ملک قرار دے کر اس کا پرچم اپنے قومی پرچم کے ساتھ کون لہراتا رہا؟ افغانستان۔

یوم پشتونستان منانے کا فیصلہ کس ملک میں ہوا؟ افغانستان میں۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ افغانستان نے قیام پاکستان کو حقیقت بنتے دیکھا تو تب کے افغان وزیر اعظم ہاشم خان کی سرپرستی میں پشتون زلمے قائم کر دی گئی اور طے کیا گیا پاکستان بنتے ہی یہ زلمے گڑ بڑ پھیلائے گی اور افغان فوج پاکستان پر حملہ کر دے گی۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ پشتون تحریک کے سید جمال شاہ کے مطابق اس سلسلے میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی جس میں افغان اسٹریٹیجک ڈیپتھ کی زلفیں سنواری گئیں۔ اس میں چیف آف اسٹاف سردار داؤد، ان کے چچا وزیر دفاع سردار شاہ محمود اور ایک پاکستانی سیاسی رہنما شریک تھے۔ افغان بادشاہ ظاہر شاہ  تک نے لوئی جرگہ میں پاکستان کے خلاف تقریر کی۔

کیا یہ بھی سچ نہیں کہ بھارت میں افغانستان کے سفیر سردار نجیب اللہ نے کہا بس آج کل میں قبائلی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی مرکزی اسمبلی کا انتخاب کر کے حکومت قائم کر لیں گے۔

کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ افغان وزیر اعظم داؤد خان نے تو پاکستان میں بغاوت کے لیے باقاعدہ ایک وزارت قائم کی اور اس کا قلمدان خود سنبھالا۔

کیا اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ پاکستان کے سفارت خانوں پر افغانستان میں حملے کیے گئے اور وہاں لہراتے پاکستان کے پرچم اتار کر پشتونستان کے پرچم لگا دیے گئے۔

مزید پڑھیں: ہمارے شہر مر رہے ہیں

اس کے باوجود جب افغانستان پر مشکل وقت آیا تو پاکستان نے ہر طرح سے مدد کی۔ جدید دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا ملک بتا دیجیے جس نے مہاجرین کے لیے دل کے دروازے یوں کھولے ہوں جیسے پاکستان نے کھولے۔

پاکستان اب بھی صرف یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکی جائے۔ اس میں کیا غلط ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’آئیے لندن کا بہترین چہرہ دکھائیں‘، میئر صادق خان نے لیسٹر اسکوائر میں رمضان لائٹس کا افتتاح کردیا

پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان نے اب تک کتنے ٹی20 میچز کھیلے اور نتائج کیا رہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں نظام کی تبدیلی کا اشارہ، ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں بھیجنے کا اعلان

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت سے بڑے مقابلے سے قبل پاکستان کا بھرپور ٹریننگ سیشن

دہلی یونیورسٹی میں اختلاف کی قیمت؟ ایک واقعہ، کئی سوالات

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟