کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث مہنگائی سے پہلے ہی پریشان شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
شہر میں آٹا فی کلو 135 روپے سے بڑھ کر 145 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800 روپے سے بڑھ کر 2900 روپے تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح 50 کلو آٹے کا تھیلا 7000 روپے سے بڑھ کر 7250 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گندم کے ریٹ سال 2021 والے، کیا آٹے کی قیمت میں بڑی کمی ہو سکتی ہے؟
مارکیٹ انتظامیہ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران 50 کلو آٹے کا تھیلا 1500 روپے تک مہنگا ہو چکا ہے، جو عام صارفین کی قوتِ خرید پر براہِ راست ضرب ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ کے رہائشی حمزہ جاہ نے کہا کہ ہر گزرتے ہفتے کے ساتھ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عوام شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹے کی بڑھتی قیمتیں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ آنے والا ماہِ صیام غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو سکتا ہے۔
آٹا ایک بنیادی ضرورت ہے، مگر اس کی قیمتوں میں روزانہ اضافہ حکومت کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ مہنگائی کم کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر آٹے جیسی بنیادی شے کی قیمت پر قابو پانا بھی ممکن نہیں رہا۔
دوسری جانب مرکزی چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن بدرالدین نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گندم اور آٹے کی ترسیل کے نظام کو عملی طور پر محدود کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پختونخوا میں ایک فرد سالانہ کتنے کلو آٹا کھاتا ہے؟ صوبائی وزیر کا حیران کن بیان
ان کے مطابق خیبر پختونخوا کی یومیہ ضرورت تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار بوریاں ہے، جبکہ پنجاب سے صرف 20 ہزار بوریاں روزانہ پرمٹ کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث وہاں شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
بدرالدین کے مطابق پشاور میں 100 کلو آٹے کی قیمت 12 ہزار 600 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ پنجاب میں سرکاری سطح پر یہی قیمت 11 ہزار روپے مقرر ہے، جس سے صوبوں کے درمیان واضح قیمتوں کا فرق پیدا ہو گیا ہے۔ سندھ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت اپنی گندم کے ذخائر سے فلور ملز کو تقریباً 9 ہزار روپے فی 100 کلو کے حساب سے گندم فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ بلوچستان ہے، جو اپنی سالانہ گندم کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک پنجاب اور سندھ پر انحصار کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی سالانہ گندم کی ضرورت تقریباً 18 لاکھ ٹن ہے، جبکہ مقامی پیداوار اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت کا مہنگائی میں کمی کا دعویٰ! گھی، آٹا، دالیں سمیت کیا کیا مہنگا ہوا؟
فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق صوبوں کے درمیان گندم اور آٹے کی نقل و حرکت پر پابندیاں آئین کے آرٹیکل 151 کے منافی ہیں، جو اشیائے ضروریہ کی آزادانہ ترسیل کی ضمانت دیتا ہے۔ ان پابندیوں کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں 100 کلو آٹے کی قیمت 18 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ صرف گزشتہ 10 دنوں میں فی کلو 10 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی مہنگائی کا فوری نوٹس لیا جائے اور آٹے کی ترسیل کو یقینی بنا کر قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، بصورتِ دیگر صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔














