آبنائے ہرمز: امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

منگل 10 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی پرچم بردار بحری جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہنے کا مشورہ دیا ہے.

یہ ہدایات واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کے کپتانوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو امریکی جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں۔

تاہم اگر ایرانی فورسز کسی امریکی تجارتی جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملے کو زبردستی مزاحمت نہ کرنے کا کہا گیا ہے.

ہدایات کے مطابق زبردستی مزاحمت سے گریز کا مطلب سوار ہونے کی اجازت یا رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایران کے علاقائی سمندر سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر رہیں، بشرطیکہ نیویگیشنل سیفٹی متاثر نہ ہو۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

مشرقی سمت سفر کرنے والے جہازوں کو عمان کے علاقائی پانیوں کے قریب سے گزرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ سفارشات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور کئی ہفتوں کی سخت بیانات بازی اور جنگ کے خدشات کے بعد منعقد ہوا۔

بحری راستوں کو درپیش خطرات

عالمی بحری راستے اور تجارتی جہاز ماضی میں بھی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی زد میں رہے ہیں، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں۔ 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران دونوں ممالک نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جسے بعد ازاں ’ٹینکر وار‘ کے نام سے جانا گیا۔

حالیہ برسوں میں یمن کی حوثی تنظیم نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے کیے، جن کے بارے میں گروپ کا کہنا تھا کہ یہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں۔

گزشتہ برس جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر جنگ بڑھی تو آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک آپشن ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: قتل کی دھمکیوں پر واشنگٹن اور تہران آمنے سامنے، جنگ کے بادل منڈلانے لگے

امریکی حکومت آبنائے ہرمز کو دنیا کا سب سے اہم تیل کا بحری راستہ قرار دیتی ہے کیونکہ یہ توانائی پیدا کرنے والے خطے کو بحر ہند سے ملاتا ہے، جنوری کے اواخر میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کیں، جس پر امریکی فوج نے ایران کو ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ رویے سے خبردار کیا تھا۔

بعد ازاں امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے علاقے میں اپنے ایک طیارہ بردار جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا۔

مزید پڑھیں: ایران یورینیم افزودگی پر مؤقف پر قائم، امریکا کا دباؤ اور عسکری پیغامات تیز

واشنگٹن اس سے قبل بھی ایران پر عائد سخت پابندیوں کے تحت ایرانی تیل بردار جہاز ضبط کر چکا ہے، 2019 میں متحدہ عرب امارات نے خلیجِ عمان میں اپنے علاقائی پانیوں میں 4 جہازوں پر تخریبی حملوں کی اطلاع دی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں جہازوں کو براہِ راست کسی نئی دھمکی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

جوہری مذاکرات کا پس منظر

دوسری جانب جوہری مذاکرات بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم عنصر بنے ہوئے ہیں، دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو امریکا حملہ کرے گا۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا،  آیت اللہ خامنائی

جون 2025 کی جنگ کے دوران امریکی افواج نے ایران کی 3 بڑی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، یہ جنگ اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی تھی جبکہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات صرف جوہری معاملات تک محدود ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں حزب اللہ اور حماس جیسے غیر ریاستی عناصر کی حمایت پر بھی بات چیت کا خواہاں ہے، یورینیم کی افزودگی ایک بڑا تنازعہ بنی ہوئی ہے؛ جسے ایران اپنا خودمختار حق قرار دیتا ہے جبکہ امریکا افزودگی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ