قومی اسمبلی میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کی مخالفت پر شدید بحث دیکھنے میں آئی، جہاں پی پی پی کی رکن شرمیلا فاروقی نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے قانون کو چیلنج کرنے پر سخت ردعمل دیا۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر صدر مملکت نے دستخط کیے تو ملک گیر احتجاج ہوگا، تاہم صدر آصف علی زرداری نے ‘صحیح سمت میں کھڑے ہونے’ اور ‘اس قوم کی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونے’ کا فیصلہ کیا اور بل پر دستخط کیے، جو آج باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کم عمری کی شادی کا قانون غیر اسلامی ہے، 18 سال سے چھوٹے نوجوانوں کی شادیاں کرواؤں گا، مولانا فضل الرحمان
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی رکنِ پارلیمان، جو خود قانون ساز ہے، ایوان میں کھڑے ہو کر منظور شدہ قانون کو چیلنج کرتا ہے اور ریاست کو للکارتا ہے تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ ان کا کہنا تھا کہ تمام اراکین نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ایوان کو چلائیں گے، اس لیے منظور شدہ قانون کو چیلنج کرنا پارلیمان کی بالادستی کے خلاف ہے۔
شرمیلا فاروقی نے واضح کیا کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کو ‘شرعی’ یا ‘اسلامی معاملہ’ قرار دے کر متنازع بنانے کی کوشش درست نہیں۔ ان کے مطابق یہ قانون بچیوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے بنایا گیا ہے اور اس پر پہلے بھی مشترکہ اجلاس میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غصہ آیا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا، حافظ حمد اللہ کا اعلان
چیئر کی جانب سے انہیں پوائنٹ آف آرڈر تک محدود رہنے کی ہدایت بھی کی گئی، تاہم انہوں نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ وہ اس قانون کی بانیوں میں شامل ہیں اور ایوان اس کا محافظ ہے، اس لیے ان کا جواب دینا ضروری ہے۔













