حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی نے پاکستان میں سولر صارفین اور پاور سیکٹر دونوں کے لیے نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ ختم، کیا سولر صارفین کے لیے بلنگ مہنگی ہو جائے گی؟
اس فیصلے کے تحت صارفین جو پہلے دن کے اضافی یونٹس گرڈ کو دیتے تھے اور رات میں وہی یونٹس ون ٹو ون بنیاد پر واپس حاصل کرتے تھے اب انہیں ہر یونٹ کے بدلے کم کریڈٹ ملے گا جس سے سولر صارفین کی سرمایہ کاری اور ماہانہ بجلی کے بل پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
اس نئے نظام سے سولر صارفین کتنے متاثر ہوں گے اور یہ نظام پاکستان میں سولر انڈسٹری کے لیے کتنا بڑا چیلینج ہوگا یہ سوال اہمیت کا حامل ہے؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین سولر ایسوسی ایشن آف پاکستان وقاص موسیٰ کے مطابق حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف جانا اس پوری پالیسی کی سب سے بڑی اور بنیادی تبدیلی ہے جبکہ اس کے علاوہ باقی تمام ترامیم نسبتاً معمولی نوعیت کی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس ایک فیصلے نے سولر صارفین کے لیے پورا معاشی ماڈل بدل کر رکھ دیا ہے۔
مزید پڑھیے: سولر انقلاب یا سرمایہ کاری کو خطرہ؟ نیپرا کی نئی ریگولیشنز پر سوال
وقاص موسیٰ نے وضاحت کی کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارفین دن کے وقت اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کرتے تھے اور رات یا پیک آورز میں وہی یونٹس ون ٹو ون بنیاد پر واپس حاصل کر لیتے تھے۔ یعنی اگر کسی صارف نے دن میں 300 یونٹس گرڈ کو دیے تو رات کے استعمال میں وہی 300 یونٹس ایڈجسٹ ہو جاتے تھے جس سے بجلی کا بل نمایاں حد تک کم یا مکمل طور پر صفر ہو جاتا تھا۔
تاہم نئی پالیسی کے تحت حکومت نے یونٹ کے بدلے یونٹ کا نظام ختم کر دیا ہے اور اب اگر کوئی صارف مہینے میں 200 یونٹس گرڈ کو فراہم کرتا ہے تو اس کے بدلے حکومت صرف 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے کریڈٹ دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اب ایک یونٹ بجلی ایڈجسٹ کروانے کے لیے صارف کو تقریباً 5 یونٹس گرڈ کو دینے پڑیں گے جو پہلے ون ٹو ون ہوتا تھا اور یوں فی یونٹ پر 4 یونٹس کا براہِ راست نقصان صارف کو برداشت کرنا پڑے گا۔
ایک سوال کے جواب میں چیئرمین سولر ایسوسی ایشن آف پاکستان وقاص موسیٰ کا کہنا تھا کہ اس پالیسی تبدیلی کا سب سے بڑا اثر سولر لگانے والوں کی سرمایہ کاری پر پڑے گا کیونکہ ان کی انویسٹمنٹ کا ریٹرن پیریڈ بری طرح متاثر ہو جائے گا جو صارفین یہ سمجھ کر سولر پر منتقل ہوئے تھے کہ چند سال میں ان کی لاگت پوری ہو جائے گی اور اب انہیں دوبارہ بجلی کے بل ادا کرنا پڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاور سیکٹر اس وقت شارٹ ٹرم بنیادوں پر فیصلے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ صارفین جو سولر لگا کر صفر بل انجوائے کر رہے تھے وہ سسٹم پر بوجھ بن رہا ہے مگر اس مؤقف میں مکمل کاسٹ بینیفٹ اینالیسس شامل نہیں اور کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: نیٹ میٹرنگ میں مجوزہ تبدیلیاں، سولر صارفین کس حد تک متاثر ہوں گے؟
وقاص موسیٰ کے مطابق اس پالیسی کا ایک خطرناک نتیجہ یہ نکلے گا کہ صارفین تیزی سے بیٹری اسٹوریج کی طرف جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب صارف کو یہ بتایا جائے کہ ایک یونٹ کے بدلے 5 یونٹس دینے ہوں گے تو وہ خود بخود گرڈ پر انحصار کم کرنے کے بارے میں سوچے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں صارف چند بیٹریاں لگا کر شام کے اوقات میں خود مختار ہو جائے گا اور مثبت تجربے کے بعد آہستہ آہستہ مزید بیٹریاں شامل کرتا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بیٹری ٹیکنالوجی پہلے ہی اس حد تک ترقی کر چکی ہے کہ پورے دن کا لوڈ اٹھانا ممکن ہے اور آنے والے برسوں میں اس کی لاگت مزید کم ہو گی۔ اس کے نتیجے میں 2 سے 5 سال کے اندر بڑی تعداد میں ریزیڈنشل صارفین مکمل طور پر گرڈ سے اترنا شروع ہو سکتے ہیں جو قومی پاور گرڈ کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہو گا۔
وقاص موسیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال سے حکومت کو پاور سیکٹر کے مسائل کے حقیقت پسندانہ اور تکنیکی حل بتائے جا رہے ہیں مگر یونٹ کے بدلے 5 یونٹس جیسی پالیسیاں نہ صرف سولر صارفین کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ طویل مدت میں خود پاور سیکٹر کے لیے بھی مسائل پیدا کریں گی۔
یہ بھی پڑھیے: سولر سسٹم کے باوجود شہری کو 52 ہزار کا بل، شہریوں میں تشویش
سولر انسٹالیشن سے وابستہ گلباز خان کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقلی کی مجوزہ پالیسی قبل از وقت اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
ان کے مطابق نیٹ میٹرنگ نہ صرف تکنیکی طور پر مؤثر ہے بلکہ اس نے ہزاروں صارفین کو سستی اور صاف توانائی تک رسائی دی ہے۔
گلباز خان نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کے خاتمے یا اس میں بنیادی تبدیلی سے صارفین کا اعتماد متاثر ہوگا اور سولر توانائی کے فروغ کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے جبکہ پالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈرز سے مؤثر مشاورت کا فقدان بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایک اوسط گھریلو سولر صارف کے ماہانہ بل میں نیٹ بلنگ کے تحت فرق پڑ سکتا ہے مگر نیٹ میٹرنگ اب بھی ایک زیادہ قابل اعتماد اور پائیدار حل ہے جو بجلی کے نظام کے استحکام میں معاون ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں: سولر پینلز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟
سولر پینلز مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کے مطابق نیپرا کی جانب سے متعارف کرایا گیا نیٹ میٹرنگ ریگولیٹری لائسنس 2026 کسی مثبت اصلاح کے بجائے سولر انڈسٹری کے ساتھ اور اس سے بھی بڑھ کر عام صارف کے ساتھ کھلی زیادتی ہے کیونکہ اس فیصلے کے بعد گھریلو صارفین کے بجلی کے بل نہ تو منفی آئیں گے اور نہ ہی صفر ہوں گے جس سے سولر لگوانے کا بنیادی فائدہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں سولر کی مارکیٹ جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے مزید سکڑ جائے گی اور نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
شرجیل احمد سلہری کے مطابق اگرچہ معاشی اعتبار سے سولر توانائی اب بھی کسی حد تک فائدہ مند ہے مگر جہاں پہلے سرمایہ 2 سے ڈھائی سال میں واپس ہو جاتا تھا اب وہی سرمایہ 6 سے 7 سال میں پورا ہوگا جو عام صارف کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
مزید پڑھیے: سولر سسٹم لگوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بُری خبر، قیمتوں میں بڑا اضافہ
ان کا کہنا ہے کہ نیپرا نے یہ فیصلہ کرتے وقت زمینی حقائق اور عوامی مفاد کو نظرانداز کیا ہے اور یہ اقدام صارف دشمن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔













