کتابوں پر پلاسٹک کور کی ممانعت کا بل سینیٹ سے منظور

منگل 10 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹ نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں کتابوں اور تعلیمی مواد پر پلاسٹک ریپنگ پر پابندی عائد کرنے والا بل منظور کر لیا۔

یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کتابوں پر پلاسٹک کور کی روک تھام کا بل سینیٹ کمیٹی سے متفقہ منظور

سینیٹر شیری رحمان نے بل کی حمایت میں کہاکہ پلاسٹک ہمارے شہروں، دریاؤں اور برساتی نالوں کو بند کر رہا ہے، اور کتاب کو پلاسٹک میں لپیٹنا ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا میں ہر سال 430 ملین ٹن پلاسٹک پیدا ہوتا ہے، جس میں سے صرف 9 فیصد ری سائیکل ہوتا ہے، جبکہ پاکستان میں سالانہ 30 ملین ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، مگر صرف 1 فیصد ری سائیکل ہوتا ہے۔

شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان میں ہر سال 55 ارب پلاسٹک بیگز استعمال ہوتے ہیں اور ساحلی علاقوں میں زیادہ تر کچرا پلاسٹک پر مشتمل ہوتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیاکہ پلاسٹک خوراک کی صورت میں انسانی جسم میں داخل ہو رہا ہے اور اس کے صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہاکہ سینیٹ کے ارکان پہلے ہی شیشے کی بوتلیں استعمال کر کے مثال قائم کر چکے ہیں اور اب اس بل کے ذریعے ماحول دوست متبادل کو فروغ دینے اور قومی سطح پر ذمہ دارانہ رویے کا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پلاسٹک پیراسیٹامول میں تبدیل، سائنسدانوں نے بیکٹیریا سے دہرا کام لے لیا

شیری رحمان نے کتاب فروشوں اور بک اسٹورز سے اپیل کی کہ وہ کتابوں کو پلاسٹک میں لپیٹنا بند کریں تاکہ ماحول کی حفاظت اور عوامی صحت کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp