خیبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور صوبے کے مالی معاملات پر غور کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی، وفاقی حکومت کے نمائندوں اور سینیئر سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔
اجلاس میں معیشت، قانون و نظم اور صوبے میں جاری آپریشنز سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟
پی ایس ایل کی میزبانی اور خوشخبریاں
مشیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق اجلاس میں پشاور اور خیبر پختونخوا کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پی ایس ایل کے میچز اس بار پشاور میں منعقد ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم پشاور میں میچز کی میزبانی کرے گا۔
’علاوہ ازیں، پی ایس ایل کے روڈ شوز بھی صوبے کے مختلف شہروں میں منعقد ہوں گے۔ شفیع جان نے مزید بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں امن و امان بہتر ہوتے ہی سروسز سول انتظامیہ کے حوالے کی جائیں گی۔‘
مالی صورتحال اور تجاویز
مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ اجلاس میں صوبے کے مالی مسائل تفصیل سے زیر بحث آئے۔ وزیر اعظم کے سامنے خیبر پختونخوا کو درپیش مالی مشکلات اور مسائل واضح کیے گئے۔
’اگر صوبے کو این ایف سی کا واجب الادا حصہ مل جائے تو کئی بڑے مالی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ کم وفاقی فنڈز کے باوجود خیبر پختونخوا مرج اضلاع میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے، تاہم موجودہ مالی وسائل ناکافی ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ صوبے کی سفارشات وفاقی حکومت کے ساتھ لے کر بیٹھا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مالی ریلیف حاصل کیا جا سکے۔‘
انہوں نے کہاکہ متاثرہ علاقوں میں آپریشنز کے باعث تجارت اور روزگار متاثر ہوئے، جن کے متبادل انتظامات اور مالی نقصانات کی تلافی کے لیے وفاق اور صوبے کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی۔
امن و امان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے:
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے مطابق اجلاس میں امن و امان سے متعلق تاریخی فیصلے کیے گئے۔
’وزیراعلیٰ کی زیر صدارت فیصلہ ہوا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں پاک فوج اپنی ذمہ داریاں صوبائی پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرے گی۔‘
انہوں نے کہاکہ یہ اقدام صوبائی حکومت، سول انتظامیہ اور عسکری قیادت کے درمیان اعتماد اور امن کی بحالی کا ثبوت ہے۔ تمام سیاسی اور مذہبی اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کو اجلاس میں اعتماد میں لیا جائے گا اور ان کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے مطابق صوبائی ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کو نیشنل ایپکس کمیٹی میں پیش کرکے توثیق کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: تیراہ میں آپریشن جیسا حساس معاملہ وفاق پر ڈالنا گمراہ کن حکمت عملی ہے، اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی
یہ پیشرفت خیبر پختونخوا حکومت اور عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی اور خوشخبری قرار دی جا رہی ہے، جس سے صوبے میں مالی استحکام، امن و امان اور کھیلوں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔














