اسلام آباد میں حکومتِ جاپان، اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے درمیان ایک اہم معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے تحت خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے متاثرہ تعلیمی ڈھانچے کو مزید محفوظ اور مضبوط بنایا جائے گا۔ اس منصوبے کے لیے جاپان نے 427 ملین ین (تقریباً 2.7 ملین امریکی ڈالر) کی گرانٹ فراہم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جاپان کے شہنشاہ کی 66ویں سالگرہ: اسلام آباد سفارتخانے کی تقریب میں صدر زرداری مہمان خصوصی
اسلام آباد میں 11 فروری 2026 کو منعقدہ تقریب میں حکومتِ جاپان، یو این ہیبی ٹیٹ اور جائیکا کے نمائندوں نے ’خیبر پختونخوا میں تعلیمی انفراسٹرکچر کو قدرتی آفات کے مقابلے کے قابل بنانے‘ کے منصوبے کے لیے ایکسچینج آف نوٹس اور گرانٹ معاہدے پر دستخط کیے۔
خیبر پختونخوا اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں سے جنم لینے والی آفات کا شکار رہتا ہے۔ 2025 میں آنے والے کلاؤڈ برسٹس اور فلیش فلڈز کے نتیجے میں 437 اسکولوں کو نقصان پہنچا، جس سے بالخصوص سوات اور بونیر کے اضلاع میں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ نئی گرانٹ کے تحت انہی اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی بحالی اور ریٹروفٹنگ کی جائے گی تاکہ تعلیمی ماحول کو محفوظ، مستحکم اور فعال بنایا جا سکے۔

منصوبے کے تحت اسکولوں کی عمارتوں کو مضبوط کیا جائے گا، وینٹیلیشن اور روشنی کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا، جبکہ لڑکیوں اور خصوصی بچوں کے لیے باوقار، محفوظ اور قابلِ رسائی واش سہولیات (WASH) بحال کی جائیں گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئیچی نے باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے پاکستان کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی میں جاپان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانا بچوں کے تحفظ اور موسمیاتی آفات کے دوران تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم سرمایہ کاری ہے۔
یو این ہیبی ٹیٹ کی ایشیا پیسفک ریجنل ڈائریکٹر کازوکو ایشیگاکی نے کہا کہ ریٹروفٹ کیے گئے اسکول محفوظ کلاس رومز، بہتر وینٹیلیشن اور ضروری واش سہولیات فراہم کریں گے، جس سے بچے اعتماد، تحفظ اور وقار کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ ان کے مطابق اسکولوں کو ڈیزاسٹر تیاری اور ہنگامی ردعمل کے مراکز کے طور پر بھی استعمال کیا جائے گا، جس سے مقامی کمیونٹیز کی استعداد میں اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان جاپان اقتصادی شراکت داری کی نئی جہت، صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
جائیکا کے سینیئر نمائندے سوگاوارا تاکایوکی نے کہا کہ یہ منصوبہ جائیکا کے ’بلڈ بیک بیٹر‘ کے اصول کے مطابق ہے، جس کا مقصد متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو اس انداز سے کرنا ہے کہ وہ مستقبل کی آفات کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار معاشی و سماجی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ایک ہی نوعیت کی آفات میں دوبارہ وہی نقصان نہ ہو۔
اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے حکومتِ جاپان اور جائیکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کوآپریشن فریم ورک اور سینڈائی فریم ورک کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جو کمزور طبقات کے لیے مضبوطی اور تحفظ کو فروغ دیتا ہے۔
حکام کے مطابق آفات سے محفوظ اسکولوں کی تعمیر و بحالی اور متعلقہ تربیت کے ذریعے نہ صرف جانی و مالی نقصان میں کمی لانے میں مدد ملے گی بلکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انسانی تحفظ اور مقامی سطح پر ہنگامی ردعمل کی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔














