بھارت میں آج، 12 فروری، ملک گیر ہڑتال یا بھارت بند کا اعلان کیا گیا ہے۔ مزدور یونینز اور کسان حکومت کے نئے لیبر کوڈز، اجرت کی پالیسیوں اور نجکاری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان اور بھارت پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث، خطے کی صورتحال پر سوالات اٹھ گئے
قریباً 10 مرکزی یونینز اور 30 کروڑ کارکن ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کارکنوں کے حقوق اور ملازمت کی حفاظت کو کمزور کرتے ہیں۔ اس دوران بینکنگ اور دیگر سروسز متاثر ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت کے غیر قانونی اقدامات کشمیری شناخت کو نہیں مٹا سکتے، وزیراعظم آزاد کشمیر
اہم مطالبات میں نئے لیبر کوڈز کی واپسی، MGNREGA کی بحالی، دیہی روزگار اسکیمز میں بہتر روزگار کی ضمانت اور کارکنوں کے حقوق کی حفاظت شامل ہیں۔ ہڑتال کی حمایت کئی کسان تنظیموں نے بھی کی ہے اور ملک بھر میں مظاہرے اور اجتماعات جاری ہیں۔














