سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران کو ذاتی معالجین اور ماہر امراضِ چشم تک رسائی دینے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو دونوں اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے بیرسٹر سلمان صفدر کی 3 گھنٹے تک ملاقات، صحت سے متعلق حقائق سامنے رکھ دیے
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت عدالت میں فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس پیش کی گئیں۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معائینہ کی ہدایت کردی
معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کی بھی ہدایت کردی
دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کئے جائیں گے سپریم کورٹ pic.twitter.com/59YTI2ThhR— Mian Aqeel Afzal (@mianaqeelafzal) February 12, 2026
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دونوں رپورٹس ایک جیسی ہیں، جن میں میں 2 سفارشات یعنی آنکھ کے علاج تک رسائی اور بچوں سے ٹیلی فون پر بات چیت قابلِ غور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی اور سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ دستیاب کھانے کی سہولیات کو بھی تسلی بخش قرار دیا۔
تاہم طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی کی درخواست کی۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات، سلمان صفدر کی 7 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے، جس پر مداخلت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت حکومت کا مؤقف سننا چاہتی ہے اور یہ بھی واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں، اس لیے ان کی صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے اور اگر کوئی قیدی طبی سہولیات پر مطمئن نہ ہو تو ریاست ضروری اقدامات کرے گی۔
مزید پڑھیں: کنونشن سینٹر کا نجی استعمال، آئینی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف کیس نمٹا دیا
انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
چیف جسٹس نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ عدالت بانی پی ٹی آئی کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں کوئی نمایاں یا خصوصی سہولت دینے کی ہدایت نہیں دے رہی۔
’ہم ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ انہیں دوسروں سے زیادہ سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔‘
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے آنکھوں کے معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ 16 فروری سے پہلے طبی معائنہ مکمل کیا جائے۔
بانی پی ٹی آئی کو کچھ کتابیں بھی مہیا کی جائیں ، سلمان صفدر
اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز اگر کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیں گے تو فراہم کر دی جائیں گی ، سپریم کورٹ
چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی https://t.co/29uwQpPxLH pic.twitter.com/Ez7bW3NBCe— Ali Tanoli (@alitanoli889) February 12, 2026
البتہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے میڈیکل چیک اپ کے دوران کسی ایک فیملی ممبر کی موجودگی کی استدعا مسترد کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے بچوں سے ٹیلی فون کالز کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت حکومت پر اعتماد کر رہی ہے اور امید ہے کہ اس حوالے سے مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ آج حکومت اچھے موڈ میں ہے، سلمان صفدر بدستور فرینڈ آف دی کورٹ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں: بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان کے خلاف مقدمات کو بریانی سے تشبیہہ کیوں دی؟
سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے کہا کہ اصل کیس میں سماعت کا حکم محفوظ کیا جا رہا ہے جبکہ ٹرائل کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے اور اپیلیں ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کو کچھ کتابیں فراہم کرنے کی استدعا بھی سامنے آئی۔ فرینڈ آف دی کورٹ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو مطالعے کے لیے چند کتابیں مہیا کی جائیں۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آنکھوں کے معالجین کے مشورے کی روشنی میں کتابوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماہر ڈاکٹر مطالعے کی اجازت یا سفارش کریں گے تو متعلقہ کتابیں فراہم کر دی جائیں گی۔














