سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کے معائنے اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کا حکم

جمعرات 12 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران کو ذاتی معالجین اور ماہر امراضِ چشم تک رسائی دینے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو دونوں اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے بیرسٹر سلمان صفدر کی 3 گھنٹے تک ملاقات، صحت سے متعلق حقائق سامنے رکھ دیے

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت عدالت میں فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس پیش کی گئیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دونوں رپورٹس ایک جیسی ہیں، جن میں میں 2 سفارشات یعنی آنکھ کے علاج تک رسائی اور بچوں سے ٹیلی فون پر بات چیت قابلِ غور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی اور سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ دستیاب کھانے کی سہولیات کو بھی تسلی بخش قرار دیا۔

تاہم طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی کی درخواست کی۔

مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات، سلمان صفدر کی 7 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے، جس پر مداخلت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت حکومت کا مؤقف سننا چاہتی ہے اور یہ بھی واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں، اس لیے ان کی صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے اور اگر کوئی قیدی طبی سہولیات پر مطمئن نہ ہو تو ریاست ضروری اقدامات کرے گی۔

مزید پڑھیں: کنونشن سینٹر کا نجی استعمال، آئینی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف کیس نمٹا دیا

انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ عدالت بانی پی ٹی آئی کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں کوئی نمایاں یا خصوصی سہولت دینے کی ہدایت نہیں دے رہی۔

’ہم ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ انہیں دوسروں سے زیادہ سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔‘

عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے آنکھوں کے معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ 16 فروری سے پہلے طبی معائنہ مکمل کیا جائے۔

البتہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے میڈیکل چیک اپ کے دوران کسی ایک فیملی ممبر کی موجودگی کی استدعا مسترد کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے بچوں سے ٹیلی فون کالز کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت حکومت پر اعتماد کر رہی ہے اور امید ہے کہ اس حوالے سے مثبت پیش رفت ہوگی۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ آج حکومت اچھے موڈ میں ہے، سلمان صفدر بدستور فرینڈ آف دی کورٹ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں: بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان کے خلاف مقدمات کو بریانی سے تشبیہہ کیوں دی؟

سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے کہا کہ اصل کیس میں سماعت کا حکم محفوظ کیا جا رہا ہے جبکہ ٹرائل کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے اور اپیلیں ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کو کچھ کتابیں فراہم کرنے کی استدعا بھی سامنے آئی۔ فرینڈ آف دی کورٹ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو مطالعے کے لیے چند کتابیں مہیا کی جائیں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آنکھوں کے معالجین کے مشورے کی روشنی میں کتابوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماہر ڈاکٹر مطالعے کی اجازت یا سفارش کریں گے تو متعلقہ کتابیں فراہم کر دی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

5 پاؤنڈز کا عطیہ جیب میں ڈالنے کا معاملہ، ابرار الحق اور صحافی سفینہ خان کے درمیان تکرار کی ویڈیو وائرل

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟