پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ پڑھ کر دل شدید کرب اور صدمے میں مبتلا ہے اور یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ ایک انسان کی جان کے ساتھ اس طرح کا کھیل کیسے کھیلا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان صحت مند ہیں، اڈیالہ جیل میں معائنے کی رپورٹ جاری
بیرسٹر سلمان صفدرکی عمران خان سے ملاقات کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ عمران خان ملک کے مقبول ترین رہنما، لاکھوں لوگوں کی دھڑکن اور سابق وزیراعظم ہیں، جنہوں نے اس قوم کو بڑے اسپتال دیے اور عوام تک صحت کی سہولتیں پہنچانے کا خواب دیکھا، مگر آج وہ خود بنیادی علاج سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان گزشتہ 922 دن سے سخت ترین قید میں ہیں، حالانکہ کسی بھی قیدی کے کچھ بنیادی حقوق ہوتے ہیں، اور ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ اس طرح کا رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
شیخ وقاص اکرم کے مطابق عمران خان کی صحت سے متعلق اس سنگین صورتحال میں تین فریق براہ راست ذمہ دار ہیں، جن میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور آئی جی جیل و سپرنٹنڈنٹ جیل شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک عمران خان مکمل صحت مند تھے اور ان کی بینائی 6 ایکس تھی، جو بالکل نارمل تصور کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی آفیشل سے متعلق غلط بیانی کی گئی، شیخ وقاص اکرم کی وضاحت
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں اچانک عمران خان کی بینائی متاثر ہونے اور نظر کمزور ہونے کی شکایات سامنے آئیں، جن کے بارے میں جیل حکام کو بارہا آگاہ کیا گیا، مگر کسی قسم کا فوری طبی معائنہ یا علاج فراہم نہیں کیا گیا۔ اس غفلت کے باعث عمران خان کی دائیں آنکھ کو شدید نقصان پہنچا اور اب صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جیل انتظامیہ نے غیرقانونی طور پر اہلخانہ، سیاسی قیادت اور مشیروں سے ملاقاتوں پر پابندیاں لگائیں، حتیٰ کہ بچوں کو فون پر بات کرنے کی اجازت بھی نہ دی گئی، حالانکہ اس حوالے سے عدالتی احکامات موجود تھے۔
شیخ وقاص اکرم نے جیل کی حالت زار پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی میں مناسب کولنگ سسٹم موجود نہیں، کولر اکثر خراب رہتا ہے، فریج کی سہولت نہیں، جگہ جگہ کیڑے مکوڑے ہیں اور ناقص خوراک کے باعث عمران خان کئی بار فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان 8 فروری کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت کے قائد ہیں، اور ان کے ساتھ ہونے والا یہ سلوک ناقابل معافی ہے۔ صحت کو پہنچنے والا شدید نقصان، ذہنی دباؤ، غیر انسانی رویہ، غذائی قلت اور پرائیویسی کی مسلسل خلاف ورزیاں سنگین جرائم کے مترادف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں حتمی فیصلہ عمران خان کا، چھوڑ کر جانے والے غیر متعلقہ ہیں: شیخ وقاص اکرم
شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ عمران خان کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی کی ذمہ داری جیل حکام، آئی جی جیل اور متعلقہ افسران پر عائد ہوتی ہے اور ان سب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خدا نخواستہ عمران خان کی صحت کو مزید نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری جیل انتظامیہ پر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ایک منظم سازش کے تحت ہو رہا ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اور ذمہ داروں کے نام منظرعام پر لا کر سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔














