بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ اگر ووٹنگ کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو جماعت انتخابی نتائج کو قبول کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور بیشتر علاقوں میں جماعت کو سبقت حاصل ہے، تاہم حتمی رائے قائم کرنے کے لیے ابھی انتظار ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش انتخابات: ابتدائی نتائج میں بی این پی سب سے آگے، 77 نشستوں پر برتری
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے جمعرات کی شام 7 بجے ڈھاکہ-15 کے مرکزی انتخابی دفتر سی لاؤنج ریسٹورنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج کے ابتدائی اشارے موصول ہو رہے ہیں، لیکن ابھی کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا مفاد ان کی اولین ترجیح ہے اور عوام پر مکمل اعتماد ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو اپنے قیام سے اب تک متعدد بار پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر جماعت نے اپنا سفر جاری رکھا۔ ان کے بقول سابق قیادت میں سے کچھ رہنما طبعی وفات پا گئے جبکہ بعض کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔
Counting of votes underway in Bangladesh
Early results show Tarique Rahman winning on both seats
Meanwhile, Jamaar chief Shafiqur Rahman leading from Dhaka-15 seat@Mohammed11Saleh brings you this ground report by @sidhant pic.twitter.com/SPzuYjUI0J
— WION (@WIONews) February 12, 2026
بیرونِ ملک مقیم ووٹرز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ گزشتہ تین انتخابات میں وہ ووٹ نہیں ڈال سکے تھے، تاہم اس بار سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹنگ کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تارکین وطن ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اگر انہیں ان کے حقوق دیے جائیں تو وہ مزید دلجمعی سے تعاون کریں گے۔
انہوں نے جولائی کی تحریک کے دوران تارکین وطن کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترسیلات زر پر پابندیوں کے اعلان کے باوجود انہوں نے احتجاج کیا اور بعض افراد کو گرفتاریوں اور قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اقتدار میں آ کر تارکین وطن کے لیے سہولیات اور مواقع میں اضافہ کیا جائے گا۔

صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ میڈیا نے بھرپور تعاون کیا اور اگر کسی تک رسائی نہ ہو سکی تو اس پر معذرت خواہ ہیں۔ ان کے مطابق ملک کی تعمیر میں سیاست دانوں اور صحافیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خوف و ہراس کی فضا ضرور قائم کی گئی، لیکن کوئی بڑی بے قاعدگی سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:ووٹ خریدنے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان
مخالف امیدواروں سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی ان کی اپنے حریفوں سے ملاقات ہوئی۔ “ایک امیدوار کامیاب ہوگا اور ہم اس کی کامیابی کو تسلیم کریں گے۔ اگر میں منتخب ہوا تو سب کی مشاورت سے کام کروں گا۔ حکومت میں آ کر تمام جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں گے اور دوست ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے سب کو ان کا حق دیں گے۔”













