البانیہ کی مشہور اداکارہ انیلا بشا نے کہا ہے کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے اے آئی چیٹ بوٹ میں ان کی تصویر اور آواز کے استعمال کو روکنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ اداکارہ نے حکومت پر اپنی شناخت کے استحصال کا الزام بھی لگایا ہے۔
وزیراعظم ادی راما نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ ایک اے آئی نظام جسے ڈیلا کہا گیا ہے عوامی ٹینڈرز کے پورٹ فولیو کی نگرانی کرے گا اور ایک ’وزیر‘ کے طور پر کام کرے گا۔ اس کا مقصد کرپشن کو ختم کرنا اور ٹینڈرز کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے دوستی کا رجحان کہیں حقیقی زندگی سے دوری کی شروعات تو نہیں؟
انیلا بشا نے کہا کہ انہوں نے اپنی تصویر اور آواز کے اس طرح استعمال کی کبھی اجازت نہیں دی۔ ان کے مطابق انہوں نے پہلے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جو 2025 کے آخر تک آن لائن سروس پورٹل پر ورچوئل اسسٹنٹ کے لیے تصویر کے استعمال کی اجازت دیتا تھا۔
حکومت کے اعلان کے بعد ایک ویڈیو میں بشا کے چہرے کا کمپیوٹر جنریٹڈ ورژن وزیر کے طور پر پارلیمنٹ سے خطاب کرتا دکھایا گیا۔ اس ویڈیو میں وزیر نے کہا کہ یہ نظام ’لوگوں کی جگہ لینے نہیں آیا‘۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
بشا نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل ایجنسی برائے انفارمیشن سوسائٹی نے ان کی تصویر اور آواز پر پیٹنٹ دائر کر دیا جس سے ان کے کام پر اثر پڑا۔ حکومت سے رابطے کے بعد کوئی جواب نہ ملنے پر اداکارہ نے عدالت میں رجوع کیا۔
ڈیلا جس کا مطلب ’سورج‘ ہے عوامی ٹینڈرز کے تمام فیصلوں کی نگرانی کرے گی جس سے وزیراعظم راما کا کہنا ہے کہ یہ عمل ’کرپشن فری‘ ہوگا۔













