عمران خان کی صحت پر تحفظات اور ان کو مناسب علاج کی فراہمی کے حق میں جمعے کو شروع ہونے والا پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ ہاؤس پر دھرنا بدستور جاری ہے جس میں
اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت بھی شریک ہے تاہم قائدین احتجاج کے دوران روشنی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر جاکر بیٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج کے لیے تیار، مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ماضی کے تجربات سے محتاط رہنے کے حامی
واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے تمام داخلی و خارجی دروازے تاحال نہیں کھولے گئے جس کے باعث کشیدہ صورتحال برقرار ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پارلیمنٹ کے اندر نہیں پہنچ سکے
اراکین کی آمد و رفت محدود
مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے اپوزیشن ارکان اسمبلی کو پارلیمنٹ لاجز سے باہر نکلنے سے بھی روک دیا جس پر اپوزیشن نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اس سے قبل پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرنے والے اپوزیشن ارکان سے حکومتی نمائندوں نے رابطہ کیا تھا۔
ون پوائنٹ ایجنڈا: عمران خان کی صحت
اپوزیشن قیادت نے حکومتی نمائندے کے سامنے اپنا ون پوائنٹ ایجنڈا رکھا اور واضح کیا کہ مطالبہ تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔
عمران خان کی صحت پر دھرنا پارلیمنٹ کے اندر منتقل#ImranKhan, #Protest, #ParliamentHouse, #PakistanPolitics, #HealthUpdate, #PTI, #BreakingNews, #Islamabad, #Dharna, #MedicalRights pic.twitter.com/2GUShJnrLj
— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) February 13, 2026
اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ان کا واحد ایجنڈا ہے اور اس معاملے پر فوری پیشرفت ضروری ہے۔
حکومتی نمائندے نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کرائی۔
قیادت کے بیانات
دریں اثنا چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کے تمام دروازے بند کیے گئے تو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے سامنے ہی احتجاج جاری رکھیں گے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ دھرنا مکمل طور پر پرامن ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ کی ملاقات کرائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے انہیں بتایا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے تاہم اب شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں ماہر ڈاکٹرز موجود ہیں اور بانی پی ٹی آئی کا مناسب علاج یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کے بقول اس معاملے کو مزید الجھانے کے بجائے افہام و تفہیم کے ذریعے حل کی طرف بڑھنا وقت کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کے اعلان کے پیش نظر ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا جس کے باعث پارلیمنٹ جانے والے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور اراکین اسمبلی کو بھی آگے بڑھنے سے روک دیا گیا جس پر تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن اتحاد اور پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹ بند کر دیے گئے ہیں جبکہ عمارت کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے قیدی وین اور بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچا دی گئی تھیں۔
ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور پولیس نے شہریوں اور اراکین اسمبلی کو پارلیمنٹ کی جانب جانے سے روک دیا۔
پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی بھی چوک پر روکے گئے جبکہ پارلیمنٹ جانے سے روکنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان کی پولیس سے تکرار بھی ہوئی۔

ریڈ زون سیل کیے جانے کے باعث اطراف میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے اور شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

دریں اثنا تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عمران خان کو الشفا اسپتال میں داخل نہیں کر دیا جاتا۔
پارلیمنٹ کے باہر علی امین گنڈاپور کا بیان، عمران خان کو آنکھ عطیہ کرنے کا اعلان
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے لیے آنکھ عطیہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ان کے حلقے کے متعدد افراد انہیں پیغامات بھیج رہے ہیں کہ وہ بھی عمران خان کو اپنی آنکھ عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عطیہ دینے کے خواہشمند افراد کی باقاعدہ فہرست بھی تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس تقریباً 100 افراد کے نام موجود ہیں جنہوں نے اپنی آنکھ عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق یہ عوام کی اپنے لیڈر سے محبت اور وابستگی کا اظہار ہے۔
علی امین گنڈاپور نے عمران خان کو آنکھ عطیہ دینے کا اعلان کر دیا۔ علی امین نے یہ بھی کہا میرے حلقے سے لوگ مجھے میسجز کر رہے کہ ہم بھی عمران خان کو اپنی آنکھ عطیہ کریں گے۔ عطیہ دینے والوں کی پوری لسٹ بنائی ہے۔ pic.twitter.com/MVLDKB4kB4
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) February 13, 2026
علی امین گنڈاپور نے اپنی صحت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور الیکٹرک شاکس دیے گئے، جس کے باعث ان کی ایک آنکھ متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنی آنکھ عطیہ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی احتجاج میں اب اجتماعی استخارہ ہوگا، شیرافضل مروت کا طنز
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام عمران خان سے اظہارِ یکجہتی اور محبت کی علامت ہے۔













