پرتگال یورپ میں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیوں میں شامل ہونے والا ملک بن گیا ہے، جہاں پارلیمنٹ نے ایک بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت سوشل نیٹ ورکس اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز تک خود مختار رسائی کی حد کم از کم عمر 16 سال مقرر کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے
نئے قانون کے مطابق 13 سال یا اس سے زائد عمر کے بچے سوشل میڈیا استعمال کرسکیں گے، تاہم انہیں والدین یا قانونی سرپرست کی اجازت لینا لازم ہو گی۔ بل میں عمر کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر نظام متعارف کرانے کی بھی شق شامل کی گئی ہے، جو ڈیجیٹل موبائل کی یا دیگر محفوظ سسٹمز سے منسلک ہو گا تاکہ صارفین کی درست شناخت یقینی بنائی جا سکے۔
پارلیمانی اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے قانون کے ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا، خصوصاً پرائیویسی اور ڈیٹا اکٹھا کیے جانے کے حوالے سے خدشات سامنے آئے۔ بعض اراکین نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام شہری آزادیوں کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 16 سال سے کم عمر بچوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنایا تو کتنی سزا ہوگی؟
سوشل میڈیا کے ذہنی صحت اور نوجوانوں کی نشوونما پر اثرات سے متعلق خدشات کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں بھی سخت قوانین پر غور کیا جا رہا ہے۔ اٹلی کی پارلیمنٹ نے گزشتہ سال مئی میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل نیٹ ورکس پر پابندی سے متعلق بل پیش کیا تھا، جو اب اطالوی سینیٹ میں مزید غور کے مرحلے میں ہے۔
اسی طرح آسٹریلیا، جرمنی اور اسپین میں بھی 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیوں کی سمت پیشرفت کی جارہی ہے، جبکہ سلووینیا اور یونان بھی اسی نوعیت کی قانون سازی کی تیاری کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کم عمر بچے بھی نفسیاتی مسائل کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن نقصانات سے بچانے کی عالمی کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد سوشل میڈیا کے استعمال کو زیادہ محفوظ اور ذمہ دار بنانا ہے۔














