امریکا اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات میں اس ہفتے سفارتی، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیاں نمایاں رہیں، جب امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری جان مارک پومرشائم نے پاکستان کا دورہ کیا اور اعلیٰ حکومتی شخصیات، کاروباری رہنماؤں اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک امریکا تعلقات: دہشتگردی، سیکیورٹی اور سرمایہ کاری میں تعاون جاری
امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری ہفتہ وار ویڈیو پیغام میں ترجمان ہیرلسن کین نے بتایا کہ یہ دورہ مستقبل کی ٹیکنالوجی، جدت اور معاشی شراکت داری کے فروغ کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دینا ہے۔
امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات بھی جاری رہیں، جن کے تحت اسلام آباد میں ’فریڈم 250 لیکچر سیریز‘ منعقد کی گئی۔ اس سلسلے میں امریکی صدارتی تاریخ، قیادت اور جمہوری ورثے پر گفتگو کی گئی اور پروگرام کو ملک بھر میں لنکن کارنرز کے نیٹ ورک کے ذریعے نشر کیا گیا۔

سفارتخانے کا کہنا تھا کہ یہ تقریبات آئندہ بھی جاری رہیں گی تاکہ عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی، جہاں یو ایس اے ایجوکیشن کے تحت کراچی اور لاہور میں امریکی جامعات کے تعلیمی میلے منعقد ہوئے۔ ان فئیرز میں پاکستانی طلبہ کو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع، اسکالرشپس اور داخلہ طریقہ کار سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی، جبکہ اسلام آباد میں بھی آخری تعلیمی میلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی سے امریکی وفد کی ملاقات، پاک امریکا سیکیورٹی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے امریکی وفد نے لاہور میں بسنت میلے میں شرکت کی اور پنجاب کی اس روایتی ثقافتی تقریب میں مقامی شہریوں کے ساتھ شرکت کو دوطرفہ عوامی تعلقات کی علامت قرار دیا۔

اسپورٹس ڈپلومیسی بھی اس ہفتے کا اہم پہلو رہی۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کے موقع پر دوستانہ ماحول میں مقابلہ دیکھا گیا، جبکہ امریکی ثقافت کے نمایاں کھیل سپر باؤل کو بھی پاکستانی شائقین کے ساتھ مل کر دیکھا گیا جس میں Seattle Seahawks نے کامیابی حاصل کی۔ امریکی سفارتخانے نے اپنے پیغام میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک آئندہ بھی شراکت داری، جدت اور سفارتکاری کے نئے دور کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔












