امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا کو چین کے ساتھ تعلقات رکھنا ہوں گے، تاہم کوئی بھی معاہدہ امریکی قومی مفادات کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔
میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین دنیا کی 2 بڑی معیشتیں ہیں اور دونوں پر لازم ہے کہ وہ باہمی رابطہ برقرار رکھیں تاکہ عالمی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: میونخ: مشتبہ کار سوار حملے میں 28 افراد زخمی، افغان پناہ گزین گرفتار
روبیو نے کہا کہ دونوں ممالک کے قومی مفادات اکثر ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہوتے، لیکن عالمی برادری کے مفاد میں ضروری ہے کہ اختلافات کو ذمہ داری کے ساتھ منظم کیا جائے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکا اور چین کے تعلقات میں بعض خلشیں اور بنیادی چیلنجز موجود رہیں گے، تاہم غیر ضروری کشیدگی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
Munich Security Conference heating up! Marco Rubio blasts dangerous delusion in West's post-WWII order. Europe steps up on NATO burden-sharing vs Russia. @SecRubio @Keir_Starmer #MSC2026 #Ukraine #NATO pic.twitter.com/BCRA4cHiJY
— Denol (@DeoUfitinema) February 14, 2026
یوکرین جنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں روبیو نے کہا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاملات اب ’مشکل ترین سوالات‘ تک محدود ہو چکے ہیں۔
انہوں نے روس کی سنجیدگی پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا یہ جانچنے کا عمل جاری رکھے گا کہ آیا روس واقعی جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔
یورپ اور امریکا کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے روبیو نے واضح کیا کہ واشنگٹن کمزور اتحادی نہیں چاہتا بلکہ ایک ایسا یورپ دیکھنا چاہتا ہے جو اپنا دفاع خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
مزید پڑھیں: مہذب اقوام کا مستقبل
’۔۔۔تاکہ کوئی بھی حریف اجتماعی طاقت کو آزمانے کی جرات نہ کرے۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکا ’مغرب کے زوال کا مہذب نگراں‘ بننے میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ نظام کی اصلاح اور ازسرنو تعمیر چاہتا ہے۔
بین الاقوامی تعاون کے نظام پر اظہار خیال کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ عالمی اداروں کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں اصلاحات کے ذریعے مؤثر بنایا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق اقوام متحدہ کے پاس دنیا میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اسے عصر حاضر کے اہم مسائل پر بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔
سرحدی تحفظ اور ہجرت کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ مغرب اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی سرحدوں پر کنٹرول مضبوط نہ کرے۔
ان کے بقول یہ کسی قسم کی نفرت پر مبنی سوچ نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا بنیادی تقاضا ہے، انہوں نے بڑے پیمانے پر ہجرت کو مغربی معاشروں کے لیے ایک فوری خطرہ قرار دیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا خطے میں استحکام کے لیے کردار قابلِ تعریف، ڈار روبیو ملاقات کے بعد امریکی اعلامیہ جاری
خطاب کے اختتام پر روبیو نے یورپی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کل گزر چکا اور مستقبل ناگزیر ہے۔ ’ہماری مشترکہ تقدیر ہمارا انتظار کر رہی ہے‘
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نئے صدی کے استحکام اور خوشحالی کا راستہ متعین کرنا چاہتی ہے اور یہ سفر اتحادیوں کے ساتھ مل کر طے کرنا ترجیح ہے۔
روبیو کے خطاب کے بعد ہال میں موجود شرکا نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ امریکا یورپ کے ساتھ اپنے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔












