وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اجرا کردیا۔
وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026 کے اجرا کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے بٹن دبا کر پیکیج کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ہی مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا۔
مزید پڑھیں: رمضان المبارک میں 30 لاکھ مستحق خاندانوں کو رمضان ریلیف پیکج دیا گیا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال
وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رمضان ریلیف پیکج کے تحت ہر مستحق خاندان کو 13 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہاکہ رمضان کے بابرکت مہینے کی آمد ہے اور اس ماہ میں مسلمان دکھی انسانیت کے لیے اپنے وسائل تقسیم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں رمضان کے دوران ریلیف کی فراہمی کا فرسودہ نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ پہلے یوٹلٹی اسٹورز کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جاتا تھا جہاں اشیائے خورد و نوش کا معیار انتہائی ناقص تھا اور خریداری کا عمل بھی تکلیف دہ تھا۔
وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ سال اس نظام کو ختم کر کے ڈیجیٹل طریقہ متعارف کرایا گیا جس کے ذریعے حقداروں کو نقد رقوم منتقل کی گئیں۔ اگرچہ نئے نظام کے نفاذ میں بے شمار چیلنجز تھے لیکن انہیں کامیابی سے عبور کیا گیا۔
’عوام کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک سیل بھی قائم کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال رمضان میں 20 ارب روپے شفاف طریقے سے مستحقین میں بلا تاخیر تقسیم کیے گئے۔‘
وزیراعظم نے کہاکہ رواں سال رمضان ریلیف پیکیج کے تحت 38 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مستحق خاندانوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ایک کروڑ اکیس لاکھ مستحق خاندانوں کو بلا امتیاز اور بلا تفریق 13 ہزار روپے دیے جائیں گے اور وفاق کی سطح پر یہ ایک بڑا ریلیف اقدام ہے۔
وزیراعظم نے پروگرام کی تیاری میں شامل تمام متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام پر مؤثر عمل درآمد کے لیے وہ اس کا تواتر سے جائزہ لیتے رہیں گے۔
اس سال ایک تاریخی ریلیف پیکیج مرتب کیا گیا ہے، سیکریٹری بی آئی ایس پی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر اس سال ایک تاریخی ریلیف پیکیج مرتب کیا گیا ہے جس کا مقصد مستحق طبقات کو باعزت اور شفاف طریقے سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 میں رمضان پیکیج کے تحت ہر مستحق خاندان کو پانچ ہزار روپے دیے گئے تھے، تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر اس سال یہ رقم بڑھا کر 13 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب مستحق افراد کو بینکوں کے ذریعے براہ راست رقوم فراہم کی جائیں گی اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے ذریعے نظام کی شفافیت اور مؤثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ 2025 کے رمضان ریلیف پیکیج میں تقریباً 20 لاکھ مستحق خواتین نے ڈیجیٹل نظام کے تحت ادائیگیاں حاصل کیں جبکہ اسی نظام کے تحت 28 ہزار افراد نے بجلی کے بل بھی ادا کیے۔
رواں سال رمضان میں فی خاندان 13 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں اور مستحق خاندانوں کو بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگیاں کی جائیں گی۔ 21 لاکھ سے زائد ایسے خاندانوں کو ادائیگیاں کی جائیں گی جو کسی سرکاری کفالت پروگرام کا حصہ نہیں، جس کے لیے تقریباً 28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح حکومت کے کفالت پروگرام سے مستفید ہونے والے ایک کروڑ مستحق خاندانوں کے لیے مزید 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ان میں تقسیم کیے جائیں گے۔ وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کا مجموعی حجم 38 ارب روپے ہے اور اس سے ایک کروڑ اکیس لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔
پیکیج کے تمام مراحل کی نگرانی کے لیے وفاقی وزرا پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی گئی ہے جبکہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی وزیراعظم خود ادائیگی نظام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ عوام کی سہولت کے لیے 9999 ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔
ہر مستحق خاندان کو 13 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے، عمران شاہ
وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران شاہ نے خطاب میں کہا کہ تاریخی پیکیج کے تحت مستحق خاندانوں کو 13 ہزار روپے فی خاندان براہ راست ادا کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ کفالت پروگرام سے مستفید ہونے والے ایک کروڑ خاندانوں کے لیے مزید 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا یہ پیکیج ان کی فلاحی سوچ، عوام دوستی اور غریب پروری کا مظہر ہے اور کمزور طبقات کے لیے مسلسل فکر اور کاوش کا عملی ثبوت ہے۔
مزید پڑھیں: ساڑھے 7 ارب روپے کے وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کی تقسیم کا آغاز
انہوں نے کہا کہ بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے رقوم کی منتقلی ایک جدید، محفوظ، مؤثر اور سہل طریقہ کار ہے جو وقت کی بچت اور عزت نفس کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تخفیف غربت ہمارا مشن ہے اور وزیراعظم کی قیادت میں یہ مشن جاری رہے گا۔













