’The Invisible Coup‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب جسے پیٹر شوائزر (Peter Schweizer) نے تحریر کیا ہے، یہ مؤقف پیش کرتی ہے کہ موجودہ دور میں طاقت کا اظہار ٹینکوں اور اسلحے کے ذریعے نہیں بلکہ بیانیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
کتاب کے مطابق اشرافیہ، غیر ملکی عناصر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز خاموشی سے عوامی رائے کو تشکیل دیتے ہیں اور بین الاقوامی طاقتیں اسے ایک نظر نہ آنے والے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان بھی اس رجحان اور حقیقت سے براہِ راست متاثر ہوا ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے غصہ، جعلی خبریں، شدت پسندی اور شکایات اس تیزی سے پھیلتی ہیں کہ اکثر سچ اور حقائق پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
متن کے مطابق اس ہتھیار کو پی ٹی ایم، بی ایل اے، بی آر اے اور ٹی ٹی پی نے مختلف انداز اور مختلف پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل سہولتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔
بعض حلقوں نے سیاسی مطالبات کی آڑ میں شدت پسندی اور تشدد کا ایجنڈا اپنایا، جبکہ بیرون ملک مقیم گروہوں اور مخالف عناصر نے مخصوص بیانیوں کو عالمی سطح پر مزید تقویت دی۔
نتیجتاً معاشرے میں تقسیم میں اضافہ ہوا، ملکی ساکھ متاثر ہوئی، معاشی غیر یقینی کی فضا پیدا ہوئی اور وہ عام پاکستانی جو امن اور استحکام کے خواہاں ہیں، ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔
کتاب کے تناظر میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ چیلنج صرف زمینی سلامتی تک محدود نہیں بلکہ معلوماتی میدان میں اتحاد، سچائی کے تحفظ، بروقت آواز اٹھانے اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے اس عفریت پر قابو پانا بھی ناگزیر ہے۔














