پولیس سے مذاکرات ناکام ہونے پر جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کردیا جب ابتدائی مذاکرات ناکام ہو گئے۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم سندھ اسمبلی کے باہر بوریا بستر لے کر آرہے ہیں، جماعت اسلامی کا دھرنا تاریخی ہوگا، ایم پی اے محمد فاروق
پولیس انتظامیہ نے پہلے ہی راستے میں موبائل اور بسیں کھڑی کر کے کارکنان کو اسمبلی تک پہنچنے سے روکنے کا فیصلہ کیا تھا، اہلکاروں نے کورٹ روڈ اور نماز روڈ پر رکاوٹیں قائم کیں تاکہ مارچ کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔
سندھ اسمبلی جاکر دھرنے دینے والے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کرکے روکنے کی کوشش کی کارکنوں نے جوابی پتھراؤ کیا پولیس مظاہرین کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئی سندھ اسمبلی روڈ میدان جنگ بن گیا ہے pic.twitter.com/cC961UzFsV
— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) February 14, 2026
ابتدائی مذاکرات میں جماعت اسلامی کے وفد اور پولیس انتظامیہ کے درمیان کوئی اتفاق نہ ہوسکا، جماعت اسلامی کے نائب امیر و رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور ڈپٹی سیکریٹری کراچی عبد الرزاق خان راستے پر بیٹھ گئے اور پولیس سے راستہ کھولنے کی درخواست کی۔

جماعت اسلامی کے رہنما محمد فاروق نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے اور سندھ اسمبلی کے باہر پرامن دھرنا دیا جائے گا، انہوں نے وعدہ کیا کہ دھرنے کے دوران کسی بھی قسم کا نقصان یا پتھر بازی نہیں کی جائے گی اور کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قرآن نذرِ آتش کیے جانے کیخلاف کراچی میں جماعت اسلامی منارٹی ونگ کا احتجاج
پولیس اور جماعت اسلامی کے درمیان یہ کشیدگی شہر کے اہم سیاسی اور حکومتی مرکز کے سامنے برقرار ہے، اور عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے دور رہیں۔

پولیس سے مذاکرات کی ناکامی پر جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کردیا ہے، جس پر پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔














