پاکستان اور انڈیا کے میچ سے پہلے سیاسی گرما گرمی نے کھیل کا مزہ غارت کردیا ہے۔ شائقینِ کرکٹ کے لیے اب میچ سے زیادہ اس سے پہلے کی صورتِ حال اعصاب شکن ہوتی ہے، جس کی بنیاد انڈیا کی نخوت ہے۔
انڈین کرکٹ بورڈ کا نو دولتیوں جیسا اوچھا پن تو اب چھپائے نہیں چھپتا لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے جانب دارانہ رویے نے بھی اس تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی نشاندہی کسی سیاسی تجزیہ کار نے نہیں بلکہ انگلینڈ کے 2 سابق کپتانوں نے کی ہے جو کرکٹ کے بلند پایہ مبصر تسلیم کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرکٹ کا سچا خادم اور ماجد خان
انڈیا گزشتہ سال چیمپئنز ٹرافی سے کرکٹ کو جس طرح سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
جنگِ چار روزہ میں شکست کے بعد اس کے رویے میں مزید ہلکا پن در آیا ہے، اس لیے بات پاکستان میں کھیلنے سے انکار سے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریز تک آ پہنچی ہے۔
ایشیئن کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی نہ لینے کا ڈراما بھی ہو چکا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کرکٹ میں پاکستان کے خلاف جیت کو اپنی جھوٹی عسکری فتح سے ملا چکے ہیں جس پر انہیں نام ور دانش ور اور کرکٹ کے مؤرخ رام چندر گوہا کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
انڈین حکومت کی حماقت کا تازہ شاہ کار پاکستانی نژاد کرکٹرز کو ویزہ دینے میں لیت و لعل سے کام لینا تھا۔ یہ سب باتیں اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف ہیں جس کے بغیر کرکٹ کیا، کوئی بھی کھیل بے روح ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیسٹ کرکٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی پہلی کامیابی کی کہانی
انڈین حکومت کی طرف سے کرکٹ کے تعلق سے اوٹ پٹانگ فیصلوں پر سابق انڈین کرکٹرز اور مبصرین کے سکوت سے کم از کم مجھے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ اب جو جنگی جنون مودی نے پیدا کر رکھا ہے، اس میں یہ مصلحت پسند کرکٹر کیا بولیں گے، یہ تو بہت پہلے سے انڈین کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر تنقید کرنا چھوڑ چکے ہیں۔
میں نے سنہ 2013 میں اپنے پسندیدہ بلے باز سنیل گواسکر کے بارے میں مضمون میں انڈیا کے چوٹی کے لکھاریوں کی تحریروں کی مدد سے واضح کیا تھا کہ انہوں نے کس طرح مفادات کی خاطر اپنا ضمیر فروخت کر دیا ہے۔
خیر، بات ہو رہی تھی انگلینڈ کے دو سابق کپتانوں کی۔ یہ ہیں ناصر حسین اور مائیک ایتھرٹن۔ انڈیا کے کرکٹ کو سیاست سے آلودہ کرنے کے رویے اور جے شاہ کی سربراہی میں آئی سی سی کے معاملات غیر منصفانہ انداز میں چلانے پر ان دونوں معتبر کرکٹ مبصرین کی آرا سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرکٹ کی بہترین کتاب کیسے شائع ہوئی؟
ناصر حسین نے کہا ہے کہ کسی کو اب اسٹینڈ لینا ہو گا کہ سیاست بہت ہو گئی، اب ہم کرکٹ کھیل لیں۔ انہوں نے کرکٹ کی اس عالمی تنظیم کے فیصلوں اور اقدامات کو دوہرے معیار پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کے ساتھ مساوی برتاؤ کرنا ہو گا۔ ان کی دانست میں انڈیا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے بارے میں رویہ تبدیل نہ کیا تو کرکٹ تباہ ہو جائے گی۔ انہوں نے پاکستان کے بنگلہ دیش کا ساتھ دینے کے فیصلے کی بھی حمایت کی۔
ناصر حسین نے کہا کہ پہلے صرف یہ محسوس ہوتا تھا کہ کرکٹ میں سیاست ہے لیکن اب تو اس پر یقین ہونے لگا ہے۔
ایتھرٹن نے بھی آئی سی سی کی انڈیا کے حق میں جانب داری پر تنقید کی ہے۔
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یک جہتی کے لیے انڈیا کے ساتھ اپنے میچ کا بائیکاٹ کر کے سخت پیغام دیا لیکن پھر اس پوزیشن پر جمے رہنے کی ضد نہیں کی اور سری لنکا کی درخواست پر میچ کھیلنے پر رضامند ہو گیا جس پر بنگلہ دیش نے بھی صاد کیا، کیونکہ اس سے بنگلہ دیش کے آئی سی سی کے ساتھ بگڑتے تعلقات کو بہتر بنانے کی راہ بھی نکلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان بمقابلہ گواسکر، دوشی کی نظر میں
اس سے پہلے بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میں انڈیا سے کھیلنے سے انکار کے بعد اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر کے سخت تادیبی کارروائی کی گئی تھی جب کہ اس قضیے کے پیچھے بھی مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے باہر کرنا تھا۔
انڈیا سے میچ کھیلنے سے ناں اور پھر ہاں کے فیصلے پر ہمارے ہاں تنقید بھی ہوئی ہے لیکن سفارت کاری میں اہم بات مقصد کا حصول اور سخت موقف اختیار کر کے کسی ممکنہ تادیب سے بچنا ہوتا ہے، مزید برآں دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر کے اسے ہمنوا بنانا اور حریف کی کمزوریوں کو عیاں کرنا ہوتا ہے اور میرے خیال میں پاکستان نے کافی حد تک یہ مقصد حاصل کر لیا ہے۔
پاکستان نے حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے دوست ملکوں سے اعلیٰ سطحی مشاورت بھی کی، اس لیے پاکستان کے انڈیا کے ساتھ میچ کھیلنے کے فیصلے کو تین ملکوں کا مشترکہ فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ملکوں کے درمیان عسکری معرکہ آرائی شروع کرنے کے وقت کا تعین تو کیا جا سکتا ہے لیکن یہ کس قدر طول پکڑے گی، اس کے بارے میں عسکری امور کے ماہرین بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کرکٹ میں بھی اس وقت یہی کچھ ہو رہا ہے۔ انڈیا کی کرکٹ میں یدھ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ اب تو اس کی لپیٹ میں دوسرے ملک بھی آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویسٹ انڈیز کا عروج اور انضمام کی ناقابل شکست اننگز
سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ کشیدگی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بھارت کو جنگ کو کھیل اور کھیل کو جنگ بنانے والی نفسیات سے نکلنا ہو گا۔ ماضی کے تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ سیاست اور کرکٹ کے ملاپ سے دلوں کو جوڑنے اور فاصلے پاٹنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔ اب بھی اسی راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













