وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہےجبکہ حکومت نے ان کی صحت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کرکٹرز کا عمران خان کی صحت پر اظہارِ تشویش، بہترین علاج کی فراہمی کا مطالبہ
ایکس پر اپنی پوسٹ میں طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق اقدامات بھی قانون اور ضابطوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ بے بنیاد پروپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیے: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کے طبی معائنے کے لیے 2 رکنی میڈیکل پینل تشکیل دیا ہے جو جلد ان کا معائنہ کر کے صحت کی صورتحال پر رپورٹ مرتب کرے گا۔ میڈیکل پینل میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں۔
عطا تارڑ کیا کہتے ہیں؟
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کو علاج کے لیے کون سے اسپتال منتقل کیا جائے گا اس بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کا آنکھوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے علاج کروایا جائے گا۔
عمران خان کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور ان کی صحت کے پیش نظر انہیں ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے
حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے۔ ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا حکومت کی…— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) February 14, 2026
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد نظر ضائع ہونے کی کوئی بات نہیں تھی بلکہ ڈاکٹرز نے کنفرم کیا تھا کہ ان کی آنکھ کے ساتھ سیریس ایشو نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے پر رضامند، سلمان اکرم راجا کا دعویٰ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت اور ان کی اڈیالہ جیل سے اسپتال ممکنہ منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے تحفظات
دریں اثنا پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے ایکس پر شیئر کردہ ایک بیان میں پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق عمران خان کو ان کے خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر خفیہ طور پر علاج کی غرض سے اسپتال منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان سے بیرسٹر سلمان صفدر کی 3 گھنٹے تک ملاقات، صحت سے متعلق حقائق سامنے رکھ دیے
بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کے مطابق ایسا کوئی بھی اقدام بنیادی انسانی حقوق اور مروجہ قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہوگا۔













