عمران خان کی اسپتال منتقلی اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ کرلیا گیا، طارق فضل چوہدری

ہفتہ 14 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہےجبکہ حکومت نے ان کی صحت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق کرکٹرز کا عمران خان کی صحت پر اظہارِ تشویش، بہترین علاج کی فراہمی کا مطالبہ

ایکس پر اپنی پوسٹ میں طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق اقدامات بھی قانون اور ضابطوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ بے بنیاد پروپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیے: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کے طبی معائنے کے لیے 2 رکنی میڈیکل پینل تشکیل دیا ہے جو جلد ان کا معائنہ کر کے صحت کی صورتحال پر رپورٹ مرتب کرے گا۔ میڈیکل پینل میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں۔

عطا تارڑ کیا کہتے ہیں؟

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کو علاج کے لیے کون سے اسپتال منتقل کیا جائے گا اس بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کا آنکھوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے علاج کروایا جائے گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد نظر ضائع ہونے کی کوئی بات نہیں تھی بلکہ ڈاکٹرز نے کنفرم کیا تھا کہ ان کی آنکھ کے ساتھ سیریس ایشو نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے پر رضامند، سلمان اکرم راجا کا دعویٰ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت اور ان کی اڈیالہ جیل سے اسپتال ممکنہ منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے تحفظات

دریں اثنا پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے ایکس پر شیئر کردہ ایک بیان میں پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق عمران خان کو ان کے خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر خفیہ طور پر علاج کی غرض سے اسپتال منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عمران خان سے بیرسٹر سلمان صفدر کی 3 گھنٹے تک ملاقات، صحت سے متعلق حقائق سامنے رکھ دیے

بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کے مطابق ایسا کوئی بھی اقدام بنیادی انسانی حقوق اور مروجہ قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ