جموں و کشمیر کے دُوڑا ضلع میں پولیس نے پوسٹرز چسپاں کیے ہیں، جن میں مبینہ عسکریت پسندوں کے بارے میں معلومات طلب کی گئی ہیں۔ اس اقدام کو کشمیری عوام کے روزمرہ تحفظ کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومتی طاقت کا ایک اور حربہ ہے جو عام شہریوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پوسٹرز میں مبینہ کمانڈر سیف اللہ اور جیش محمد کے افراد کی تصاویر شامل ہیں، تاہم کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات اصل مسئلے یعنی بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو چھپانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سنگین بحران کی شکل اختیار کرگیا
حکام نے پوسٹرز کلیدی چیک پوسٹس اور عوامی مقامات جیسے ناگری، ڈیسّا، دُوڑا انٹری پوائنٹ پر گن پاٹ برج اور ٹھتھری پر چسپاں کیے، تاکہ شہریوں سے معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے گاندوھ کے چلی جنگل میں ایک چھپنے کی جگہ سے خوراک اور کمبل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تاہم ان دعوؤں کو مقامی آبادی نے مسترد کردیا ہے۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں عام کشمیریوں کی زندگیوں میں خوف پیدا کرتی ہیں اور وہ چاہیں گے کہ ان کی زمین، وسائل اور آزادی کا احترام کیا جائے۔ شہریوں کو تشویش ہے کہ حکومت کے یہ اقدامات صرف مقامی لوگوں پر نگرانی بڑھانے اور بھارت کی قبضہ پالیسی کو جائز ثابت کرنے کی کوشش ہیں۔














