سابق بھارتی کرکٹر اور معروف تجزیہ کار سنجے منجریکر نے بھارتی کرکٹ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کھیل کے میدان میں ہاتھ نہ ملانے کو غیردانشمندانہ فیصلہ قرار دے دیا۔
مزید پڑھیں: بھارت کے ساتھ سب کچھ برابری کی سطح پر ہوگا، محسن نقوی کا ہینڈ شیک کے معاملے پر دوٹوک مؤقف
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ کھیل کا حسن اسی میں ہے کہ اس میں اسپورٹس مین اسپرٹ اور باہمی احترام کو مقدم رکھا جائے۔
This ‘no shaking hands’ is such a silly thing that India has started. It’s unbecoming of a nation like ours. Either play properly within the spirit of the game or don’t play at all.
— Sanjay Manjrekar (@sanjaymanjrekar) February 15, 2026
انہوں نے کہاکہ ہاتھ نہ ملانے جیسی روایت کا آغاز کرنا دانشمندانہ اقدام نہیں اور یہ کسی بڑے کرکٹ کھیلنے والے ملک کے وقار کے مطابق بھی نہیں۔
ان کے مطابق کھیل کا اصل مقصد ممالک اور کھلاڑیوں کے درمیان مثبت روابط کو فروغ دینا ہوتا ہے، نہ کہ دوریاں پیدا کرنا۔
سنجے منجریکر نے یہ بھی کہاکہ اگر ٹیم یا حکام کھیل کے بنیادی جذبے کے مطابق رویہ اپنانے سے گریزاں ہیں تو پھر مقابلوں میں شرکت کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔
ان کا مؤقف ہے کہ کرکٹ ہمیشہ احترام، برداشت اور اصولوں کی پاسداری کا نام رہی ہے۔
دوسری جانب بھارتی کرکٹ حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے اور بعض سابق کھلاڑیوں و ماہرین نے بورڈ کے حالیہ فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہینڈ شیک تنازع ہاکی کے میدان میں ختم، پاک بھارت کھلاڑیوں کا روایتی ہائی فائیو
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کھیل کے ماحول پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کرکٹ کو تنازعات سے دور رکھنا ہی اس کی عالمی ساکھ اور مقبولیت کے لیے ضروری ہے۔













