صوبائی حکومت کے حالیہ سخت مؤقف کے بعد کالعدم تنظیم میں شامل افراد کے بعض اہلِ خانہ نے کھل کر لاتعلقی کا اعلان کرنا شروع کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے بیان کے بعد کئی خاندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے رشتہ دار پہاڑوں پر موجود ہیں اور ان کا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی ایم، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا کا استعمال کیا، کتاب میں انکشافات
سرفراز بگٹی نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ جو افراد پہاڑوں پر موجود ہیں اگر ان کے گھر والے متعلقہ اداروں کو آگاہ نہیں کریں گے اور بعد ازاں وہ دہشتگردی میں ملوث پائے گئے تو کارروائی گھر والوں کے خلاف بھی ہو سکتی ہے۔
اس اعلان کے بعد مختلف علاقوں میں بعض خاندانوں نے سامنے آ کر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے رشتہ دار کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی میں شامل ہیں اور وہ ان سے لاتعلق ہیں۔ بعض خاندانوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ افراد کافی عرصے سے گھر سے باہر ہیں اور انہوں نے خود اپنی مرضی سے پہاڑوں کا رخ کیا۔

یاد رہے کہ ماضی میں ایسے متعدد افراد کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ لاپتہ ہیں اور انہیں جبری طور پر غائب کیا گیا ہے۔ بعض قوم پرست حلقے اور تنظیمیں اس حوالے سے ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ پیشرفت کے بعد کچھ خاندانوں کے اعلانات نے اس بحث کو نیا رخ دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نوشکی، کالعدم بی ایل اے کی وحشیانہ کارروائی میں ایک بچے کے سوا خاندان کے تمام افراد شہید
حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد اصل لاپتہ افراد اور عسکریت پسندی میں ملوث عناصر کے درمیان فرق واضح کرنا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور بے بنیاد الزامات کا سدباب ہو۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقے اس معاملے پر شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی پر زور دے رہے ہیں۔













