امریکی فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل کو آن لائن ملاقات کرنے والی خاتون کے ساتھ جنگی منصوبوں سے متعلق خفیہ معلومات شیئر کرنے کے جرم میں دو سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ امریکی محکمہ انصاف نے بدھ کو اس فیصلے کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا سابق ایگزیکٹو پر روس کو خفیہ معلومات فروخت کرنے کا الزام
62 سالہ کیون چارلس لیوک نے تقریباً 4 دہائیوں تک فعال اور ریزرو سروس میں خدمات انجام دیں اور 2018 میں کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ امریکی سینٹرل کمانڈ میں بطور سویلین ملازم خدمات انجام دیتے رہے، جو دنیا بھر میں امریکی فوجی آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے۔
استغاثہ کے مطابق اکتوبر 2024 میں لیوک نے ایک خاتون کو جس سے ان کی ملاقات آن لائن ہوئی تھی، اپنے ذاتی موبائل فون سے پیغام بھیجا جس میں لکھا تھا: ’یہ میں نے پہلے اپنے باس کو بھیجا تھا، اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ میں روزگار سے وابستہ ہوں‘۔ اس پیغام کے ساتھ انہوں نے اپنے سرکاری ای میل اکاؤنٹ سے بھیجی گئی ایک ای میل کی تصویر بھی شیئر کی، جس میں حساس معلومات موجود تھیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق لیوک کے پاس دورانِ ملازمت اور بعد ازاں سویلین عہدے پر بھی ’ٹاپ سیکرٹ‘ سیکیورٹی کلیئرنس موجود تھی۔
انہوں نے فروری 2019 میں ایک نان ڈسکلوژر معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے جس میں خفیہ معلومات کے تحفظ کی ذمہ داری واضح کی گئی تھی۔ ایک سال بعد انہوں نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ انہوں نے عوامی اعتماد کے منصب کا غلط استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے مشیر جان بولٹن پر خفیہ معلومات اہلخانہ سے شیئر کرنے کا الزام، سرینڈر کردیا
یہ کیس حالیہ عرصے میں امریکی فوجی اہلکاروں کے خلاف سامنے آنے والے ان مقدمات میں شامل ہے جن میں خفیہ معلومات آن لائن روابط کے ذریعے لیک کی گئیں۔
گزشتہ برس ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ڈیوڈ فرینکلن سلیٹر کو یوکرین جنگ سے متعلق معلومات افشا کرنے پر تقریباً 6 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ جیک ٹیکسیرا نامی اہلکار کو حساس فوجی دستاویزات لیک کرنے پر 15 سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔













