پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے خیبرپختونخوا بھر میں سڑکوں کی بندش کے باعث صوبہ ملک کے دیگر حصوں سے عملاً کٹ کر رہ گیا۔
خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والی اہم شاہراہیں کئی روز سے بند ہیں جس سے سفر، تجارت اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج: صوبائی وزیر شفیع جان کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے، سیکیورٹی ہائی الرٹ
سڑکوں کی بندش کے باعث ہزاروں مسافر راستوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں مریض، خواتین، بچے اور دیہاڑی دار مزدور شامل ہیں، جبکہ طبی ایمرجنسی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن میں صوابی کے قریب ایمبولینس میں ایک خاتون کے انتقال کی خبر نے عوامی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔
دوسری جانب رمضان کی آمد کے پیش نظر خاندانوں کو خوراک، آمدورفت اور ضروری اشیا کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سڑکوں کی بندش کے باعث پنجاب سے آٹے، چاول اور دالوں کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس سے اشیا کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں چھوٹے کاروبار اور دیہاڑی دار طبقہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
متعدد شہری، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو ماضی میں تحریک انصاف کی حمایت کرتے رہے ہیں، موجودہ صورتحال پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج کے لیے تیار، مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ماضی کے تجربات سے محتاط رہنے کے حامی
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج سیاسی مطالبات کے حصول کے بجائے عام شہریوں کو زیادہ متاثر کررہا ہے اور اس کا بوجھ انہی لوگوں پر پڑ رہا ہے جن کی نمائندگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔














