سڑکیں بند کرنا کون سا احتجاج ہے؟

منگل 17 فروری 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عجب تماشا ہے، 15 ، 20 ، 30 بلوائی نکلتے ہیں اور جب چاہیں سڑکیں ، شاہراہیں اور موٹر ویز بند کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کہاں ہے؟ یہ لوگوں کےنقل و حرکت کے حق کا تحفظ کر سکتی ہے یا اس ذمہ داری سے بھی دست بردار ہو گئی ہے؟ لوگ اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، تعلیم خود خرید رہے ہیں، اب کیا انہیں اپنے راستے بھی خود ہی کھولنا پڑیں گے؟ کیا ریاست کی طرف سے انکار ہی سمجھا جائے؟

صوابی کے قریب موٹر وے بند، حویلیاں انٹر چینج ایبٹ آباد بند، چشمہ چوک ڈی آئی خان بند، سی پیک روڈ یرک انٹر چینج سے بند، خوش حال گڑھ پل، پنڈی روڈ کوہاٹ بند، ڈی آئی خان سے مین انڈس ہائی وے بند، اکوڑہ خٹک سے خیر آباد پل بند، کوہالہ پل بکوٹ ایبٹ آباد بند۔ کوئی ایمبولینس میں جا رہا ہے، کسی کا کوئی قریبی عزیز مر گیا ہے، کسی کو کوئی ایمر جنسی ہے، لوگ سڑکوں پر ذلیل ہو رہے ہیں۔ سوال وہی ہے: ریاست کہاں ہے؟

ریاست کیا ہے؟ یہ بات بھی سمجھ لیجیے۔ عام حالات میں ریاست اور حکومت میں فرق ہے لیکن جہاں لوگوں کے حقوق کی بات آتی ہے وہاں آئین میں لکھ دیا گیا ہے کہ حکومت ہی کو ریاست سمجھا جائے گا۔ یعنی یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق فراہم کرے۔ اور حکومت سے مراد صرف وفاقی حکومت نہیں صوبائی حکومت بھی ریاست ہےاور مقامی حکومت بھی ۔

یہ بھی پڑھیں: محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تحریک انصاف معلوم انسانی تاریخ کی واحد حکومت ہے جو اپنی ہی حکومت میں اپنے ہی لوگوں کے راستے بند کر دیتی ہے۔ ویسے تو یہ اتنے دیوانے ہیں کہ عشق عمران میں مرنے کو تیار ہیں لیکن سیانے اس درجے کے ہیں کہ احتجاج وہاں کرتے ہیں جہاں ان کی اپنی حکومت ہے۔ اپنی حکومت میں، اپنی حکومتی مشینری کی چھاؤں میں یہ اپنے ہی شہروں میں اہنے ہی عوام کو ذلیل کرتے ہیں کیونکہ ’ایک تو یہ پڑھے لکھے بہت ہیں دوسرا انہیں مطالعے کی بھی بہت عادت ہے‘۔

ماضی قریب میں پنجاب میں ان کی حکومت تھی۔ اس دن راولپنڈی میں اسکولوں میں چھٹی کا وقت تھا، والدین اپنے بچوں کو اسکولوں سے لے کر واپس جا رہے تھے، عین اس وقت انہوں نے پنجاب بھر کی سڑکیں بند کر دیں۔ صوبائی وزیر قبلہ فیاض چوہان کی قیادت میں مری روڈ بند کر دیا گیا۔ پولیس سڑک کھلوانے کی بجائے وزیر صاحب کو پروٹوکول دے رہی تھی۔ متبادل سڑکوں کی طرف مڑے تو وہ بھی بند۔ راوپلنڈی سے اسلام آباد یہ نصف گھنٹے کا سفر اس روز میں نے بچوں کے ساتھ 10 گھنٹے میں طے کیا اور میں یہی سوچتا رہا کہ ریاست کہاں ہے؟ یہ صرف میرا حال نہیں تھا، سینکڑوں فیملیز کتنے ہی گھنٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ سڑکوں پر ذلیل ہوتی رہیں۔ کیا کسی کو احساس ہے کہ والدین اور بچوں کے لیے یہ کتنا اذیت ناک اور تلخ تجربہ ہو سکتا ہے؟

 اور تصور کیجیے، ان پر کیا قیامت گزرتی ہو گی جن کے پیارے ایمبولینس میں زندگی اور موت کی کشمکش میں پڑے ہوں اور وہ انہیں اسپتال نہ  لے جا سکیں کہ راستے میں جا بجا انقلاب رفع حاجت کر رہا ہو ۔ کوئی دکھ سا دکھ ہے۔

اتنا بڑا انسانی المیہ ہے لیکن کسی کو پرواہ نہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ  اپنے صوبے میں سڑکوں کو بند نہ ہونے دیں لیکن وہ تو عشق عمران کے قتیل ہیں، ان کی جانے بلا کہ لوگوں پر کیا گزر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت اگر عملاً بلوائیوں کی سہولت کاری کر رہی ہے تو وفاقی حکومت کہاں ہے؟ عام آدمی کہاں جائے؟ کس کے پاس اپنا مسئلہ لے کر جائے؟ کوئی ا س کی فریاد سننے کو موجود ہے؟

مزید پڑھیے: مولانا، افغانستان اور پاکستان

کیا دنیا کے کسی ملک میں، یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ بلوائی جب چاہیں نکلیں، اور مرکزی شاہراہیں بند کر دیں؟ کیا کوئی کمزور سے کمزور ریاست بھی یہ حرکت گوارا کرے گی؟ کجا یہ کہ اسے رسم ہی بنا لیا جائے۔

تحریک انصاف کے مطالبات درست بھی ہو سکتے ہیں اور پوسٹ ٹروتھ کی روایتی ہنر کاری کا مبالغہ بھی قرار دیے جا سکتے ہیں لیکن دونوں صورتوں میں، مطالبات منوانے کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ خلق خدا کے لیے زندگی عذاب بنا دی جائے۔

عمران خان صاحب کو طبی سہولیات ملنی چاہییں، یہ ان کا حق ہے لیکن جو ایمبولینسوں میں اپنے پیاروں کی زندگی بچانے اسپتالوں کو بھاگے جا رہے ہوتے ہیں کیا ان کا کوئی حق نہیں ہے؟

مزید پڑھیں: اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

صوبائی ہو یا وفاقی، ہر دو حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ازراہ کرم ایک بار وضاحت فرما دیں کہ وہ لوگوں کے نقل و حرکت کے حق کا تحفظ کر سکتے ہیں یا جیسے لوگ تعلیم خرید رہے ہیں، انصاف خرید رہے ہیں، بجلی اپنے سولرز سے لے رہے ہیں، پانی کے لیے اپنے اپنے بور کر رکھے ہیں ویسے ہی وہ اپنے لیے سڑکیں بھی خود ہی جا کر کھلوا لیا کریں۔ حکومتوں کے آرام میں خلل نہ ڈالا کریں۔ حکومتیں سڑکیں کھلوانے کے لیے تھوڑی بنتی ہیں، وہ تو شعور دینے کے لیے بنتی ہیں اور سڑکیں بند نہیں ہوں گی، لوگ ذلیل نہیں ہوں گے، نظام زندگی درہم برہم نہیں ہو گا، معیشت کا ستیاناس نہیں ہو گا تو شعور کیسے آئے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ